.

ایران: تراویح پڑھنے کی پاداش میں سات اھوازی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پولیس نے عرب اکثری صوبہ اھواز سے تعلق رکھنے والے سات شہریوں کو اہل سنت مسلک کے مطابق نماز تراویح کی ادائی کے الزام میں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر متنقل کر دیا ہے۔ حراست میں لیے گئے تمام ایرانی باشندے شمالی اھواز میں اپنے علاقے میں ایک گھر میں ماہ صیام کے دوران نماز تراویح کا اہتمام کر رہے تھے۔

فارسی نیوز ویب پورٹل"سجام نیوز" نے سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ نماز تراویح کی ادائی میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد سات سے زیادہ ہے۔ یہ تمام افراد ایک گھر میں سنی مسلک کے مطابق نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔

ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم"ھرانا" کی ویب سائٹ پر ان سات افراد کے نام بھی جاری کیے گئے ہیں۔ حراست میں لیے گئے شہریوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کے اقارب کو گذشتہ جمعہ کو حراست میں لیا جس کے بعد ان کے ٹھکانے کا کوئی پتا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت ملک میں شیعہ کے علاوہ دیگر مسالک پر مسلسل پابندیاں عائد کرتی چلی آ رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران سیکیورٹی فورسز سُنی مکتب فکر کے لوگوں کو دبانے کے لیے دسیوں افراد کو حراست میں لے کر انہیں جھوٹے مقدمات میں سزائیں دلوا چکی ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے افراد پر ایران میں "وہابی" مسلک کی تبلیغ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

چونکہ صوبہ اھواز میں اکثریت عربی بولنے والے سنی مسلمانوں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صوبہ ایرانی حکومت کے عتاب کا شکار رہا ہے۔