.

'ایف بی آئی' امریکی مسلمانوں کو دہشت گرد بنا رہی ہے!

ہیومن رائیٹس واچ کا امریکا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نےالزام عائد کیا ہے کہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے"ایف بی آئی" کے بعض اقدامات کی وجہ سے 11 ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد امریکی مسلمان دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی معاونت پر مجبور ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے امریکی مسلمانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرنے میں "ایف بی آئی" کے کردار کی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کولمبیا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی حقوق کے تعاون سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں ایسے 27 واقعات کو بہ طور مثال پش کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں الزام عائد کیا گیا کہ ایف بی آئی نے دہشت گردی کے شبے میں سزاپانے والے امریکیوں کے 215 اقارب، وکلا اور دیگر معاونین کوحراست میں لے ان سے تفتیش کی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ بعض اوقات دانستہ یا غیر شعوری طور پر ایسے حالات پیدا کرتا رہا ہے جس کے نتیجے میں آئین اور قانون کی پابندی کرنے والے شہری دہشت گردی کی کارروائیوں کی طرف مائل ہونے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی کے 30 فی صد واقعات یا پرتشدد کارروائیوں میں کسی نہ کسی شکل میں ایف بی آئی کا بھی ہاتھ رہا ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے محقق انڈریا براساؤ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ "امریکیوں کو کہا جاتا ہے کہ حکومت انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں سے تحفظ دلانے کی ضمانت فراہم کرتی ہے لیکن خود امریکی خفیہ ادارے دہشت گردی کے ارتکاب کا ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کرتے ہیں"۔

انسانی حقوق کےادارے کی رپورٹ میں چار ملزمان کےنام جاری کیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر یہودی معبد[کنیسہ] اور امریکی فوجی اڈے پر حملے میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ ان چاروں ملزمان کے بارے میں ان کے مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے مرتکب افراد کو شدت پسندی کی طرف لے جانے، ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کرنے اور کارروائی کی راہ ہموار کرنے میں حکومت نے بھی کسی حد تک معاونت کی تھی۔

اسی رپورٹ میں امریکی کانگریس کی عمارت اور وزارت دفاع کے ہیڈکواٹرز پر دھماکا خیز مواد کے ذریعے ہوائی جہازوں کے حملے کی منصوبہ بندی کے 27 سالہ ملزم رضوان فردوس کا نام بھی شامل ہے۔ رضوان کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام مین سترہ سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔