.

امریکا،یورپ کی تل ابیب کے لیے بیشتر پروازیں بند

راکٹ حملوں کے پیش نظرامریکی،یورپی فضائی کمپنیوں نے پروازیں روک دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور یورپ کی بیشتر فضائی کمپنیوں نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے بن گورین بین الاقوامی اڈے کے لیے اپنی پروازیں تاحکم ثانی بند کردی ہیں۔

امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کی ہدایت پر امریکی فضائی کمپنیوں نے چوبیس گھنٹے کے لیے اپنی پروازوں کی تل ابیب آمد ورفت معطل کی ہے۔ایف اے اے نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 22 جولائی کو بن گورین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے قریباً ایک میل دور راکٹ گرنے کے بعد امریکی فضائی کمپنیوں کے لیے یہ نوٹس جاری کیا ہے۔

ایف اے اے کی جانب سے اس انتباہ کے بعد امریکی فضائی کمپنیوں ڈیلٹا ،امریکن ائیرلائنز اور یو ایس ائیرویز نے تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اپنی تمام پروازوں کی آمد ورفت روک دی ہے۔ان کمپنیوں کو پروازوں سے متعلق مزید ہدایات ایف اے اے کے نوٹس کے نافذالعمل ہونے کے چوبیس گھنٹے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

سکیورٹی وجوہ کی بنا پر امریکی پروازوں کی بندش کے فوری بعد یورپی ممالک کی بڑی فضائی کمپنیوں نے بھی نے اسرائیلی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔ان میں جرمنی کی لفتھانسا ،ائیرفرانس ،ڈچ ائِرلائن کے ایل ایم اورجرمنی کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ائیربرلن نے بدھ سے تل ابیب میں سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپ کی تیسری بڑی فضائی کمپنی نارویجئین ائیر نے تاحکم ثانی تل ابیب کے لیے پروازیں معطل کردی ہیں۔سکنڈے نیوین ائیرلائنز نے کوپن ہیگن سے منگل کی رات تل ابیب جانے والی اپنی پرواز روک لی ہے۔اس کمپنی کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح مزید پروازیں معطل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکی اور یورپی فضائی کمپنیوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنے والی جماعت حماس اور دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر جوابی راکٹ حملوں کے بعد پروازیں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں سے ایک راکٹ بن گورین ہوائی اڈے کے نزدیک ہی گرا تھا جس سے دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مغربی فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے مسافروں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے پروازیں عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے مسافر اپنے سفری پروگرام کو تبدیل کرسکتے ہیں اور وہ پہلے سے خرید کردہ ٹکٹ پر ہی اپنے نئے پلان کے مطابق سفر کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کے ٹرانسپورٹ کے وزیر یسرائیل کاٹز نے ان فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی پروازیں معطل نہ کریں اور معمول کے روٹ کے مطابق پروازیں جاری رکھیں۔ان کے بہ قول:''تل ابیب کا بن گورین ہوائی اڈا پروازوں کے اترنے اور وہاں سے اڑان بھرنے کے لیے بالکل محفوظ ہے۔طیاروں اور مسافروں کے لیے سکیورٹی تشویش کا کوئی جواز نہیں ہے''۔برٹش ائیرویز نے ہنوز تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اس کی دو پروازیں روزانہ لندن سے تل ابیب آتی اور جاتی ہیں۔