.

امیرِقطر کی شاہ عبداللہ سے جدہ میں بات چیت

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے سمیت علاقائی امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے منگل کی شب سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات،غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے سمیت علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ان دونوں عرب لیڈروں کی سعودی عرب اور قطر کے درمیان اس سال کے آغاز میں اخوان المسلمون اور بعض دوسرے ایشوز پر محاذ آرائی کے بعد یہ پہلی ملاقات ہے۔بعض میڈیا ذرائع کے مطابق قطر غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں وہ سعودی عرب کی آشیرباد کا خواہاں ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں چھے سو فلسطینی شہید اور کم سے کم چار ہزار زخمی ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے عرب ممالک اور ان کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ کی جانب سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے اور ان کے لیڈر محض لفظی بیان بازی پر ہی اکتفا کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت اور مخالفت کے معاملے پر قطر اور دوسری خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں سردمہری پائی جارہی ہے۔قطر اخوان کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس نے مصر کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کو کروڑوں ڈالرز امداد دی تھی جبکہ سعودی عرب سمیت دوسری خلیجی ریاستیں اخوان کی مخالف ہیں اور وہ موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی حمایت کررہی ہیں۔

جنگ بندی کی تجویز

بعض مصری عہدے دار نے اس شُبے کا اظہار کیا ہے کہ قطر نے حماس کی قاہرہ کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔تاہم دوحہ میں حماس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ قطر نے ان پر کوئی اثرورسوخ استعمال نہیں کیا ہے بلکہ وہ تو ہمارے پیغام کے ابلاغ کے لیے معاونت کررہا ہے۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ مصری حکام نے جنگ بندی کی تجویز کے سلسلہ میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور ان کی جماعت ایسی کسی ڈیل سے کیسے اتفاق کرسکتی ہے جس کا وہ کبھی حصہ ہی نہیں رہی ہے۔

حماس نے مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا اور اس کے بجائے اپنی بعض شرائط پیش کی تھیں جن میں کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کرے اور جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کو رہا کرے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے گذشتہ اتوار کو دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی تھی۔بعد میں ایک بیان میں انھوں نے تمام فلسطینی عوام کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زوردیا تھا۔محمود عباس کے کیمپ سے تعلق رکھنے والے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ان کی شرائط بھی حماس سے ملتی جلتی ہیں۔