.

سوڈانی مرتدہ کی پاپائے روم سے ویٹی کن میں ملاقات

روم آمد پر اطالوی وزیراعظم ماٹیو رینزی اوراہلیہ نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے والی سوڈانی عورت اطالوی حکومت کے ایک سرکاری طیارے میں جمعرات کو روم پہنچ گئی ہے اور پاپائے روم پوپ فرانسیس نے اس مرتدہ کو خصوصی شرف باریابی بخشا ہے اور عیسائیت پر ثابت قدم رہنے پر اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

ویٹی کن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ'' رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے اپنی قیام گاہ پر تیس منٹ تک مریم یحییٰ ابراہیم اور اس کے خاوند سے ملاقات کی ہے،انھوں نے اس عورت کی عیسائی عقیدے پر ثابت قدمی اور اس سے وابستگی کے لیے دلیری کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی ہے''۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''یہ ملاقات پوپ کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ قُربت اور یک جہتی کا اظہار ہے جو اپنے عیسائی عقیدے کی بنا پرمصائب کا سامنا کرتے ہیں''۔اس حمایت اور سرپرستی پر مرتدہ عورت اور اس کے سوڈانی نژاد امریکی خاوند ڈینیل وانی نے پوپ فرانسیس کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں مریم یحییٰ ابراہیم کا روم آمد پر کسی سربراہ مملکت کی طرح خود اطالوی وزیراعظم ماٹیو رینزی اور ان کی اہلیہ نے استقبال کیا۔خرطوم کی ایک عدالت نے 15 مئی کو اس عورت کو ملحد ہونے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی اور اس کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عاید کردی تھی لیکن بعد میں بین الاقوامی سطح پر شوروغوغے کے بعد سوڈانی عدالت نے پھانسی کا حکم واپس لے لیا تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ سوڈانی حکومت نے اس کو ملک سے باہر جانے کی کیوںکر اجازت دی ہے۔تاہم ایک سینیر سوڈانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ حکام نے اس کی بیرون ملک رخصتی میں رکاوٹ نہیں ڈالی اور اس کی پیشگی منظوری دے دی گئی تھی۔

اطالوی نائب وزیرخارجہ لاپو پسٹیلی سوڈان سے مریم ابراہیم ،اس کے خاوند اور دونوں بچوں کوایک خصوصی طیارے میں اٹلی لائے تھے۔ روم کے ہوائی اڈے پر اترتے وقت انھوں نے اس مرتدہ کا ایک بچہ بھی اٹھا رکھا تھا۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اٹلی سوڈان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔البتہ انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی کہ سوڈان اس عورت کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر کیسے رضا مند ہوگیا ہے۔

اطالوی نائب وزیرخارجہ نے اپنے فیس بُک صفحے پر مریم ابراہیم اور اس کے دوبچوں کے ساتھ ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس کے ساتھ یہ تحریر کیا ہے:''روم سے چند منٹ کے فاصلے پر۔مشن مکمل ہوگیا''۔

پسٹیلی نے روم کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم کا خاندان کچھ دن اٹلی ہی میں قیام کرے گا اور حکومت کا مہمان ہوگا۔اس کے بعد امریکا چلا جائے گا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا سوڈانی عورت کی پاپائے روم پوپ فرانسیس سے ملاقات کا امکان ہے؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ''میں پوپ کے ایجنڈے سے آگاہ نہیں ہوں۔پوپ کو وزیراعظم نے مریم کی آمد سے آگاہ کردیا ہے اور وہ خوش اور شکرگزار ہیں''۔ویٹی کن کے ترجمان فادر فیڈریکو لمبارڈی نے قبل ازیں کہا تھا کہ پوپ کی ڈائری میں ایسی کوئی ملاقات شامل نہیں ہے لیکن اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی اچانک یہ ملاقات ہو بھی گئی ہے۔

اطالوی وزیراعظم رینزی نے اسی ماہ کے آغاز میں یورپی یونین کی چھے ماہ کے لیے صدارت سنبھالنے کے موقع تقریر کے دوران بھی اس سوڈانی ملحدہ کے کیس کا بطور خاص حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ''اگر یورپ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں ہوتا ہے تو ہم خود کو یورپ کہلوانے کے حق دار نہیں ہیں''۔

واضح رہے کہ سوڈانی عدالت نے جون میں اس ملحدہ کی سزائے موت ختم کردی تھی لیکن سوڈانی حکومت نے اس پر جعل سازی کے ذریعے ملک سے باہر جانے کا الزام عاید کیا تھااور اس کو اس کے عیسائی خاوند اور دو بچوں کے ساتھ امریکا جانے سے روک دیا تھا۔اس کو پہلے گرفتار کر لیا گیااور پھر رہا کردیا گیا تھا،جس کے بعد اس نے خاوند سمیت خرطوم میں امریکی سفارت خانے میں پناہ لے لی تھی۔

خرطوم کے رومن کیتھولک چرچ کا کہنا ہے کہ اس ستائیس سالہ عورت نے سوڈانی نژاد امریکی عیسائی مرد سے شادی کے لیے دینِ اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی تھی۔اس پر اس کے خلاف خرطوم کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور اس عدالت نے 2011ء میں اس کی عیسائی خاوند کے ساتھ شادی کو تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اس نے مرتد ہونے اور خاوند کے ساتھ شادی کے بغیر تعلقات کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

مریم ابراہیم نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے مسلم والد نے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔اس کی ایتھوپیائی آرتھوڈکس عیسائی ماں نے اس کی عیسائی کے طور پر ہی پرورش کی تھی لیکن اس کے مسلم خاندان نے اس کے اس دعوے کی تردید کی تھی اور گذشتہ ہفتے غیر مسلم (عیسائی خاوند ڈینیل وانی) کے ساتھ شادی کو کالعدم قرار دینے کے لیے ایک قانونی درخواست دائر کی تھی تاکہ اس کو بیرون ملک جانے سے روکا جاسکے۔تاہم بعد میں یہ کیس بھی ختم کردیا گیا تھا۔