.

صومالی خاتون پارلیمنٹرین قاتلانہ حملے میں ہلاک

مقتولہ سادو علی ملک کی معروف پوپ گلوکارہ تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے پولیس حکام کے مطابق نامور گلوکارہ اور رکن پارلیمنٹ سادہ علی ورسام کو دارالحکومت مقدیشوں میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ڈرائیور سمیت ہلاک کر دیا۔

عینی شاہدین اور پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح حملہ آور ایک کار میں سوار تھے۔ انہوں نے سادو علی کی کار پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دارالحکومت کےجنوب میں ایک دوسرے شہر کےدورے سے واپس آ رہی تھیں۔

خیال رہے کہ صومالیہ رواں سال میں اب تک چار ارکان پارلیمنٹ کو قتل کیا جا چکا ہے۔

صومالیہ میں سرگرم اسلامی شدت پسند تنظیم "الشباب الاسلامی" ملک میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث رہی ہے۔ سنہ 2011ء میں فرانس اور دیگر ملکوں کی کارروائی میں الشباب کو موگادیشو سے نکال دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اس تنظیم سے وابستہ شدت پسند مضافاتی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

چند ماہ قبل "الشباب" کا دھمکی آمیز بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تنظیم صومالیہ کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو چن چن کر قتل کرے گی۔ موگادیشو پولیس کے ایک عہدیدار محمد حسن نے خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کو بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے رکن پارلیمنٹ سادو علی ورسام کو اس کے ڈرائیور سمیت ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس اس واقعے کی مزید تفصیلات نہیں ہیں، پولیس قتل کی چھان بین کر رہی ہے۔

ایک عینی شاہد نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ اس نے سادو علی کی کار پر فائرنگ کرنے والے دو نا معلوم افراد کو دیکھا ہے جو فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے تھے جبکہ سادو علی اور ان کا ڈرئیور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

آخری اطلاعات تک کسی گروپ کی جانب سے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، تاہم فوری طور پر اس کارروائی میں شدت پسند تنظیم الشباب ہی کو ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو ماضی میں بھی اہم سیاسی شخصیات کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کرنے میں ملوث رہی ہے۔

گذشتہ اپریل میں الشباب کے عبدالعزیز ابو مصعب نامی ایک ترجمان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں اس نے دھمکی دی تھی کہ تنظیم صومالیہ کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو ایک ایک کر کے قتل کرے گی۔ اس بیان سے چند گھنٹے قبل صومالیہ کے دو ارکان پارلیمان کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری الشباب نے قبول کی تھی۔

سادو علی سنہ 2012ء کے پارلیمانی انتخابات مین صومالیہ کی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں لیکن سیاست میں آنے ان کی وجہ شہرت ایک خوش آواز گلوکارہ کی تھی، تاہم سنہ 1970ء کے بعد انہوں نے گلوکاری ترک کرکے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔