.

غزہ میں اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی تحقیقات

یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کی ہے اور اس کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

انسانی حقوق کونسل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے مہابا اور غیر متناسب استعمال کیا ہے اور ان کے خلاف غیر امتیازی حملے کیے ہیں،انھیں اجتماعی سزا دینے کے لیے شہری علاقوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ساڑھے چھے سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں ڈیڑھ سو بچے اور دوتہائی عام شہری ہیں۔

سینتالیس رکن ممالک پر مشتمل کونسل نے بدھ کو جنیوا میں اپنے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک قرار داد منظور کی ہے۔یہ قرار داد فلسطینی مبصر مشن کے سفیر نے پیش کی تھی۔اس کے حق میں انتیس ووٹ آئے ہیں اور مخالفت میں صرف ایک ووٹ پڑا ہے اور وہ امریکا کا تھا۔یورپی یونین کے نو ارکان سمیت سترہ ممالک کے مندوبین رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں متعین فلسطینی سفیر ابراہیم قریشی نے کہا کہ ''ہم یہاں آپ کے ساتھ مل کر بمباری کا نشانہ بننے والے بچوں کو کم سے کم انصاف دلانے کے لیے آئے ہیں۔ان خواتین کو انصاف دلانے کے لیے آئے ہیں جن کی لاشیں گلیوں میں پڑی ہیں اور ان لوگوں کو کچھ انصاف دلانا چاہتے ہیں جن کی نسل کشی کی جارہی ہے''۔

اسرائیل اور اس کے پشتی بان امریکا نے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کو یک طرفہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا جوابی ردعمل ہوگا اورا س سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

کونسل میں اسرائیل کو مبصر کا درجہ حاصل ہے۔اس کے سفیر ایویٹر مینر نے قرارداد پر رائے شماری سے قبل دعویٰ کیا کہ ''اسرائیل نے غزہ جنگ کے دوران بین الاقوامی کی مکمل پاسداری کی ہے''۔لیکن اگر اسرائیل کی فوج نے واقعی عالمی جنگی قوانین کی پاسداری کی ہے تو پھر وہ تحقیقات سے گریز پا کیوں ہے۔

انسانی حقوق کونسل کا یہ ایک روزہ خصوصی اجلاس فلسطین ،مصر اور پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔یادرہے کہ اسرائیل ماضی میں کونسل پر متعصب ہونے کا الزام لگا چکا ہے۔اس نے بیس ماہ تک اس کا بائیکاٹ کیا تھا اور گذشتہ سال اکتوبر میں اس کے ساتھ تعاون بحال کیا تھا۔اسرائیل قبل ازیں بھی اسی انداز میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی مظالم یا ان کی سرزمین پر قبضے کے خلاف بین الاقوامی تحقیقات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔