.

مسلمان کا زبردستی روزہ تڑوانے پر بھارتی پارلیمنٹ میں احتجاج

روزہ تڑوانے میں نریندر کی اتحادی شیو سینا کا رکن ملوث تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری کہلانے والے سیکولر بھارت میں دائیں بازو کے شد ت پسند ہندووں کے ووٹوں سے جیت کر آنے والے نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات میں تیزی کا رجحان ہے۔

کٹر مذہبی خیالات کے حامل ہندو ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھوں ایک مسلمان باورچی کا زبردستی روزہ تڑوائے جانے کی وڈیو سامنے آنے پر بھارتی پارلیمنٹ کے اعتدال پسند ارکان نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے۔

اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہندو رکن پارلیمنٹ زبردستی ایک روزہ دار مسلمان باورچی کو زبردستی کھانا کھلاتے ہوئے اس کی روزہ شکنی کر رہا ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے یہ وڈیو دیکھنے کے بعد اس واقعے کی مذمت کی اور پارلیمنٹ میں سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے '' شیو سینا سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔''

ویڈیو کے مطابق انتہا پسند ارکان پارلیمنٹ کا ایک گروہ بڑے ہجوم کی موجودگی میں ایک مسلمان باورچی کے منہ میں زبردستی روٹی کے نوالے ٹھونس رہا ہے تاکہ اس کا روزہ نہ رہے۔ مبینہ طور پر ان ارکان پارلیمنٹ کو کھانے کے معیار پر اعتراض تھا۔

جمعرات کے روز اس بات کے میڈیا میں آنے کے بعد اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے اس واقعے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

مسلمان کو زور زبردستی روزہ تڑوانے والے رکن پارلیمنٹ کا نام راج بابورا وکرے معلوم ہوا ہے۔ اس انتہا پسند رکن کا کہنا ہے کہ یہ اس کی طرف سے کھانا غیر معیاری ہونے پر احتجاج تھا۔

خیال رہے مہاراشٹرا سادان گیسٹ ہاوس اہم شخصیات کی آمد کے حوالے سے معروف ہے۔ گیسٹ ہاوس کے انچارج کا کہنا ہے اس واقعے سے باورچی مسلمان کو سخت اذیت ہوئی ہے اور مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ پچھلے ہفتے پیش آیا تھا۔

شیو سینا نے لوک سبھا کی 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور ملک کی چھٹی بڑی جماعت ہونے کے ناطے حکمران جماعت بی جے پی کی اہم اتحادی ہے۔