.

اقوام متحدہ کا امدادی قافلہ بلا اجازت شام میں داخل

سلامتی کونسل نے ایسے قافلوں کو داخلے کا اختیار دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا انسانی بنیادوں پر متاثرین جنگ کے لیے امداد لے کر جانے والا قافلہ شامی حکومت کی اجازت کے بغیر ہی شام میں داخل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ قافلہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقے سے داخل ہوا ہے۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لاکھوں متاثرین کو امدادی سامان پہنچانے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے شام کے متحارب فریقوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کو اپنی جنگی حکمت عملی کی بنیاد پر نہ دیکھیں۔

واضح رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دس روز قبل ایک متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی کے تحت امدادی قافلوں کو ترکی، عراق اور اردن کے راستے چار مختلف مقامات سے شام میں داخل ہونے کا اختیار دیا تھا۔

اس قرارداد کے بعد شام نےخبردار کیا تھا کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کے علاقے میں داخل ہو کر امداد کا تقسیم کیا جانا اسے قبول نہیں ہو گا۔ تاہم اب نو ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ ترکی کے راستے باب السلام راہداری سے شام میں داخل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے شعبے کی ترجمان ایمنڈا پٹ کے مطابق امدادی قافلہ اپنے ساتھ خانہ جنگی کے متاثرین کے لیے خیمے، خوراک، پینے کا صاف پانی اور نکاسی آب کے لیے پائپ و دیگر سامان لے کر گیا ہے۔

تاہم ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ امدادی قافلہ کسی متاثرہ علاقے میں پہنچ گیا ہے یا نہیں۔ خیال رہے بان کی مون نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ شام میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ افراد امداد کے منتظر ہیں۔

ان متاثرین میں سے 47 لاکھ افراد تک رسائی ہی انتہائی کٹھن ہے۔ جبکہ شامی حکومت اور باغیوں کے زیر قبضہ مختلف علاقوں میں 24 لاکھ سے زائد لوگ محصوری کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ فریقین مسلسل امدادی سامان کے ان علاقوں میں پہنچائے جانے کے خلاف متحرک ہیں۔

اس صورت حال میں سیکرٹری جنرل نے کہا تھا '' میں تمام فریقوں سے کہتا ہوں کہ محاصرہ ختم کریں ، جیسا کہ ماہ فروری میں منظور کردہ قرار داد میں بھی کہا گیا ہے کہ متاثرین کو بلا رکاوٹ، محفوظ اور سرعت کے ساتھ امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔