.

دو بیلجیئن شہریوں کی شام میں جہادی بیٹوں سے ملاقات

دونوں داعش میں شامل جہادی لڑکوں کو بیلجیئم لوٹنے پر آمادہ کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے دو باپ اپنے جہادی بیٹوں کی تلاش میں خانہ جنگی کا شکار شام پہنچے ہیں اور وہ ان کی تلاش میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں لیکن انھوں نے ان کے ساتھ وطن واپس جانے سے انکار کردیا ہے۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق دونوں نوعمر لڑکے لوقس اور عبدالمالک 11 جون 2014ء کو اچانک لاپتا ہوگئے تھے اور وہ بڑی خاموشی سے بیلجیئم سے شام پہنچ گئے تھے۔ان کے والدین کو بعد میں پتا چلا تھا کہ وہ جنگجو گروپ دولت اسلامی شام وعراق (داعش) میں شامل ہوچکے ہیں۔

یہ دونوں لڑکے شام کے شمالی شہر الرقہ کے نزدیک واقع صحرائی علاقے سلوک میں داعش کے ایک کیمپ میں موجود پائے گئے ہیں۔العربیہ نیوز کی نمائندہ نے ترکی اور شام کی سرحد پر اٹھارہ سالہ لوقس کے بیلجیئن والد پول وان حیسش سے ملاقات کی ہے۔انھوں نے شام کے خطرناک سفر کے بعد بتایا کہ وہ لوقس کو داعش کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حیسش نے بتایا کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے انھیں ایک گھنٹے تک اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔دونوں لڑکے صحرا میں ایک بین الاقوامی ہاؤس میں رہ رہے ہیں اور ان سے بات کرنا کوئی آسان نہیں تھا کیونکہ داعش کے جنگجو سارا وقت ان کے پاس ہی بیٹھے رہے تھے''۔

انھوں نے العربیہ کو مزید بتایا کہ ''میرا بیٹا خوف زدہ نظرآرہا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ جونہی بیلجیئم لوٹے گا تو پولیس اس کو گرفتار کرلے گی اور پھر جیل میں ڈال دے گی''۔

دوسرا جہادی لڑکا عبدالمالک ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کے والد کو اس کی صحت کے حوالے سے تشویش لاحق تھی اور اس بات کا بھی یقین نہیں تھا کہ شام میں اس مرض کی دوا دستیاب ہے۔ان دونوں بیلجیئن شہریوں کو داعش کے لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد بیٹوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی اور ان کے شام کے اس سفر کا انتظام ایک اور بیلجیئن باپ دمتری بونتنک نے کیا تھا۔ان کا بیٹا بھی گذشتہ سال جہاد کے لیے شام آگیا تھا لیکن وہ اس کو واپس لے جانے میں کامیاب رہے تھے۔

لوقس اور عبدالمالک سمیت قریباً دوہزار یورپی نوجوان اس وقت شام میں موجود ہیں اور وہ شام کے باغی گروپوں یا جہادی تنظیموں میں شامل ہوکر صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔ان جہادیوں کی شام میں جوق درجوق آمد پر یورپی ممالک کو تشویش لاحق ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ لوگ واپس اپنے آبائی ممالک میں جاکر حکومتوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔