فٹ بالر بھی غزہ میں بمباری اور خونریزی پر رنجیدہ

بورٹن کا مغربی ممالک سے اسرائیل کو روکنے کا مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پر آٹھ جولائی سے ہونے والی اسرائیلی بمباری نے کھلاڑیوں کی روایتی سپورٹس مین سپرٹ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ جوئے بورٹن اور یوسی بین آیون نے گذشتہ روز ایک دوسرے کے ساتھ سخت جملوں پر مبنی ٹویٹس کا تبدلہ کیا ۔

بورٹن نامی 31 سالہ فٹ بالر نے مشرق وسطی کے حالیہ تنازعے پر اپنے موقف کا سوشل میڈیا پر کھل کر اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ فٹبال کا یہ کھلاڑی سوشل میڈیا پر اپنے 26 لاکھ فالورز رکھتا ہے۔

کوئینز پارک رینجرز سے تعلق رکھنے والے فٹ بالر بورٹن نے جوشیلے ٹویٹ کرتے ہوئے آٹھ جولائی سے غزہ پر ہونے والی بمباری کا ذکر کیا۔ جس کے نتیجے میں اب تک کم از 850 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس بمباری کے دوران اقوام متحدہ کا سکول ، مساجد، ہسپتال سب کچھ ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔

بورٹن نے اپنے ٹویٹ پیغام میں غزہ میں بچوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا ''مغربی ممالک کو مداخلت کر کے اسرائیل کو روکنا چاہیے۔ معصوم بچوں کا ذبح کیا جانا لازما بند کیا جائے۔''

اس نے مزید لکھا ہے '' اسے اللہ کیسے دیکھتا رہے گا، اور اس سے اغماض برتے گا، کیا یہ اس کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ ''
بورٹن جو کہ مانچسٹر سٹی اور نیو کیسل کی طرف سے کھیلتا ہے نے اپنے ٹویٹ پیغام میں فلسطینی بچوں کی تصاویر بھی شامل کی ہیں۔ اور کہا ہے یہ معصوم بچے ہیں۔

بورٹن کے اس ٹویٹ نے لیور پول کے سابق کھلاڑی بین آیون کو برافروختہ کر دیا جو اسرائیل کی طرف سے اب تک 96 مرتبہ سامنے آ چکا ہے۔ آج کل وہ مکابی حیفہ کی طرف سے کھیلتا ہے۔

تاہم دونوں کھلاڑیوں کے درمیان حتمی طور پر معاملہ اچھی خواہشات پر ختم ہو گیا، دونوں بہر حال کھلاڑی تھے اس لیے اسرائیلی وحشیانہ بمباری کی حمایت پر اڑنا مشکل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں