.

ایردوآن نے السیسی کو 'ظالم' قرار دے دیا

متنازع تبصرے پر قاہرہ ۔ انقرہ کے درمیان سفارتی کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اور تُرکی فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے مظالم بند کرانے میں تو ناکام رہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان غزہ کے معاملے پر جاری نوک جھوک نے دوطرفہ سفارتی کشیدگی میں اضافہ ضرور کیا ہے۔ مصری حکومت نے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے صدر عبد الفتاح السیسی کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر قاہرہ میں متعین قائم مقام ترک سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج کیا ہے۔

قبل ازیں ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے امریکی ٹی وی سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مصری صدر فیلڈ مارشل [ریٹائرڈ] عبدالفتاح السیسی کو "ظالم" قرار دینے سے متعلق اپنے بیان کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصری حکومت غزہ کے بحران کےحل میں سنجیدہ نہیں اور قاہرہ کا موقف اسرائیلی حمایت پر مبنی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے صدر مملکت عبدالفتاح السیسی کی 'شان' میں گستاخانہ بیانات پر قاہرہ حکومت کو سخت افسوس ہے۔ انہوں نے صدر السیسی کے بارے میں جو 'بے سرو پا' الزام تراشی کی ہے وہ اس کی کوئی دلیل اور ثبوت پیش نہیں کر سکے ہیں۔ صدر السیسی کے بارے میں متنازعہ بیانات سے لگتا ہے کہ ترک وزیر اعظم مصر کی سیاسی صورحال سے قطعی ناواقف ہیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی کی جانب سے تین جون 2013ء کے مصری انقلاب کو 'ناجائز' قرار دیتے ہوئے مصر کے صدارتی انتخابات کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صدارتی انتخابات کو غیر شفاف اور آمرانہ قرار دے کر حقائق سے چشم پوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مصر کے صدارتی انتخابات کی شفافیت کی گواہی ملکی، علاقائی اور کئی عالمی اداروں کی جانب سے بھی دی جا چکی ہے۔

مصری حکومت نے ترکی کی جانب سے صدر السیسی پر مسلسل تنقید کو قاہرہ کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے طیب ایردوآن کے ریمارکس کو مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مصری حکومت کا موقف واضح ہے۔ مصر، فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق اور آزادی کی حمایت جاری رکھے گا اور مبنی پر حقیقت موقف میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔

ترک وزیر اعظم طیب ایردوآن نے امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے ساتھ ساتھ صدر عبدالفتاح السیسی کی پالیسیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ السیسی مظلوم اہالیان غزہ کی کیا مدد کریں گے وہ خود بھی ایک "ظالم" انسان ہیں۔ انہوں نے حکومت ترکی کی حمایت یافتہ فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف قاہرہ حکومت کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا۔

ترک حکومت کے انہی ریمارکس کی بناء پر قاہرہ میں متعین قائم مقام ترک سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا گیا۔