.

شامی اپوزیشن امریکا سے دفاعی امداد کی منتظر

الجربا کو فیلڈ کمانڈر بنائے جانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت اور شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم نیشنل الائنس کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد واشنگٹن کی جانب سے شامی باغیوں کی مسلح امداد کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم شامی اپوزیشن ابھی تک خود کو امریکی موقف سے ہم آہنگ اور امریکیوں کے لیے قابل قبول بنانے کی سعی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ھادی البحرہ کو نیشنل الائنس کا چیئرمین منتخب کیے جانے کے بعد سبکدوش ہونے والے چیئرمین احمد الجربا کو شام میں عسکری امور کی براہ راست نگرانی کے لیے فیلڈ کمانڈر بنائے جانے کا بھی امکان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق واشنگٹن، شامی اپوزیشن کی سیاسی اور عسکری ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کو بنظر غائر دیکھ رہا ہے اور یہ جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا شامی اپوزیشن میں سیاسی معاملات کے ساتھ اندرون ملک محاذ جنگ اپنی گرفت مضبوط بنانے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔

شامی اپوزیشن بھی پچھلے کئی ماہ سے امریکی حکومت کو اپنا موقف سمجھانے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی ضمن میں اپوزیشن کونسل کے سیاسی ڈھانچے، عسکری کونسل اور جیش الحر کی صف اول کی قیادت میں جوہری تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کا مقصد امریکا سے جلد از جلد دفاعی امداد حاصل کرنا ہے۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ امریکا نے بھی شامی اپوزیشن کے اداروں میں کی جانے والی تبدیلیون کو مثبت قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی مالی اور اخلاقی معاونت کے بعد اب دفاعی شعبے میں امداد کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم 'ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں' کے مصداق شامی حزب اختلاف کو مزہد بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔ اپوزیشن کونسل کے نئے سربراہ ہادی البحرہ ایک اعتدال پسند شخصیت ہیں وہ کونسل کے مختلف وفود میں احمد الجربا کے ہمراہ امریکا اور جنیوا کے دورے کر چکے ہیں، فی الوقت وہ امریکا کے منظور نظر ہیں۔

واشنگٹن میں شامی اپوزیشن کے ایک ذریعے نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اپوزیشن اتحاد کی موجودہ قیادت عسکری اور سیاسی ادارے میں امریکا کے لیے قابل قبول بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہے تاکہ واشنگٹن سے جلد از جلد فوجی شعبے میں مدد اور اسلحہ حاصل کیا جا سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا کس قسم کی تبدیلیاں چاہتا ہے تو اپوزیشن ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکیوں کی خواہش ہے کہ شامی کونسل بیرون ملک سرگرمیاں اپنے سیاسی دفتر کے قیام تک محدود نہ رکھے بلکہ اتحاد اور شامی میدان جنگ میں لڑنے والے جیش الحر کے تمام گروپوں کے درمیان براہ راست رابطہ ہو۔ شامی اپوزیشن کا اپنے ملک کے اندر بھی وجود ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے احمد الجربا کو فیلڈ کمانڈر بنائے جانے کا امکان ہے۔ اگر انہیں جیش الحر کی کارروائیوں کا براہ راست نگران بنا دیا گیا تو وہ عیدالفطر کے بعد شام چلے جائیں گے، جہاں جبل الزاویہ میں وہ اپنا مرکز قائم کریں گے، جہاں سے فیلڈ کارروائیوں کو مانیٹر کیا جا سکے گا۔

شامی اپوزیشن کے ماتحت عسکری گروپوں نے بھی امریکی تحفظات دور کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں اپوزیشن کے میدان جنگ میں لڑنے والے آٹھ گروپوں نے القاعدہ کی ذیلی تنظیم "النصرہ فرنٹ" کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس سے ہر قسم کی لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ چونکہ امریکا بھی النصرہ فرنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اس لیے شامی اپوزیشن کی جانب سے اس تنظیم کی مخالفت امریکی قربت اور اسلحہ کے حصول کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔