غزہ جنگ نے اسرائیلی معیشت کا بھرکس نکال دیا

یومیہ 50 ملین ڈالر کی رقم جنگ میں پھونکی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر 08 جولائی سے جاری وحشیانہ اسرائیلی فوجی کارروائی فلسطینیوں کی تباہی کا موجب تو بنی ہی ہوئی ہے مگر اس جنگ نے خود صہیونی ریاست کی معیشت کا بھی دیوالیہ نکال دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع یومیہ 50 ملین ڈالرز کی رقم جنگ میں جھونک رہی ہے۔

کثیر الاشاعت عبرانی روزنامہ"ہارٹز" نے اپنی حالیہ رپورٹ میں حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملے کے پہلے بارہ دنوں میں حکومت کو دو ارب شیکل یعنی 585 ملین ڈالر کی رقم صرف کرنا پڑی ہے۔ وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو براہ راست جنگی ضروریات کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں دسیوں غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کیں جس کے نتیجے میں اسرائیلی معیشت کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے، جو 585 ملین ڈالر سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر فوجی کارروائی کے بعد اسرائٰیل کے سیاحت کے شعبے میں آمدن صفر رہ گئی ہے، جس نے اسرائیلی معیشت کو مجموعی طور پر غیر معمولی نقصان سے دوچار کیا ہے۔

اسرائیل کے ایک اور بڑے اخبار"یدیعوت احرونوت" نے اپنے عبرانی ایڈیشن میں بتایا ہے کہ غزہ پر بمباری اسرائیل کو خاصی مہنگی پڑ رہی ہے۔ اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم "آئرن ڈوم" کا ایک میزائل 50 ہزار ڈالرز میں پڑتا ہے۔ آئرن ڈوم کو روزانہ درجنوں فلسطینی راکٹوں کا سامنا کرتے ہوئے انہیں روکنا پڑتا ہے۔ آئرن ڈوم اب تک اپنے خود کار میزائلوں سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے 200 راکٹوں کو فضاء میں تباہ کرچکا ہے۔ یوں صرف آئرن ڈوم پراسرائیل کو روزانہ 10 ملین ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ بعض فلسطینی راکٹوں کو "پیٹریاٹ" میزائلوں سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ ایک پیٹریاٹ میزائل کی قیمت ایک ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اقتصادی ماہرین کے خیال میں غزہ کی پٹی پر دو ہفتوں کی یلغار کے دوران اسرائیل کو کئی ارب ڈالر کی قیمت چکانا پڑی ہے۔ اسرائیل کے کئی ہوائی اڈوں پر پروازں کی آمد ورفت کی منسوخی کے بعد تل ابیب مجموعی طور پر بھوتوں کا شہر بن چکا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے جنگ کا خسارا پورا کرنے کے لے ہوائی جہازوں کے ٹکٹ مہنگے کر دیے ہیں۔ ہارٹز کے مطابق جنگ سے قبل اور اب کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بعض غیر ملکی سفر کے لیے ٹکٹ کی قیمت 150 فی صد تک بڑھا دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جنگ سےقبل تل ابیب سے لندن کا ہوائی جہاز کا ایک ٹکت 850 ڈالر میں دستیاب تھا اور اب 1520 ڈالر میں مل رہا ہے۔ اسی طرح تل ابیب سے امریکی شہر نیوریاک کا ہوائی جہاز کا کرایہ جنگ سے پہلے 1650 ڈالر فی کس تھا جوکہ اب بڑھ کر 2750 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں