.

لیبی فوج اور جنگجوؤں میں جھڑپیں ،38 افراد ہلاک

لیبیا میں مقیم برطانوی شہریوں کوتجارتی پروازوں سے وطن واپسی کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں سرکاری فوج اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران اڑتیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں زیادہ تر سرکاری فوجی ہیں۔

لیبیا کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ اسلامی جنگجوؤں نے بن غازی کے وسط میں واقع فوجی کے ایک خصوصی یونٹ کے ہیڈکوارٹرز پر ہفتے کی رات حملہ کیا تھا جس کے جواب میں فوجیوں نے بھی فائرنگ شروع کردی۔ان جنگجوؤں اور فوجی یونٹوں کے درمیان اتوار کو بھی جھڑپیں جاری تھیں۔

بن غازی انقلابیوں کی خود ساختہ شوریٰ کونسل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جھڑپوں میں ان کے آٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔لیبیا کی اسپیشل فورسز کے کمانڈر وینس ابو خامدہ نے رات الاحرار ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دستے سرکاری اداروں پر کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک اطلاع کے مطابق اتوار کی صبح بن غازی شہر سے شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور لڑائی کے بعد علاقے سے متعدد خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت طرابلس میں بھی متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے اور گذشتہ روز ایک مکان پر راکٹ گرنے کے نتیجے میں تئیس مصری ورکر ہلاک ہوگئے تھے۔شہر میں گذشتہ دو ہفتوں سے متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں جس کے بعد امریکا ،اقوام متحدہ اور ترکی نے وہاں تعینات اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔بن غازی میں سرکاری فوج اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی ہورہی ہے مگر دونوں مقامات پر لیبی حکومت اپنا کنٹرول قائم کرنے اور باغی جنگجوؤں کی سرکوبی میں ناکام رہی ہے۔

درایں اثناء برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں سکیورٹی کی ابتر صورت حال کے پیش نظر وہاں کے سفر سے گریز کریں۔دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں لیبیا میں مقیم برطانوی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تجارتی پروازوں کے ذریعے وہاں سےواپس آجائیں۔تاہم برطانیہ نے طرابلس میں امریکا کی طرح اپنا سفارت خانہ بند نہیں کیا ہے۔امریکا نے گذشتہ روز اپنے سفارتی عملے کو طرابلس سے تیونس منتقل کردیا تھا۔