.

لیبیا: طرابلس میں ایک اور تیل ڈپو کو آگ لگ گئی

ٹینک میں 60لاکھ لٹر تیل موجود،انسانی اورماحولیاتی المیہ رونما ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور تیل کے ایک اور ڈپو کو آگ لگ گئی ہے جبکہ حکام اس سے پہلے ایک ڈپو میں لگی آگ کو بجھانے میں ناکام رہے ہیں۔

متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی کے دوران اتوار کی رات طرابلس کے جنوب میں واقع تیل کے ایک ٹینک کو راکٹ آ لگا تھا جس سے اس میں آگ لگ گئی تھی۔لیبیا کی سرکاری نیشنل آئیل کارپوریشن نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹینک میں ساٹھ لاکھ لٹر تیل موجود ہے اور اس سے انسانی اور ماحولیاتی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔

تیل کا یہ ڈپو ائیرپورٹ روڈ پر واقع ہے۔حکام نے پانچ مربع کلومیٹر علاقے میں واقع مکینوں سے کہا ہے کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔نیشنل کارپوریشن کے ترجمان محمد الحریری نے کہا ہے کہ آگ بجھانے والا عملہ کئی گھنٹے تک تیل ڈپو میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن ان کے پاس پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور پھر وہ چلے گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اب فضا سے ہی آگ بجھانے والے طیاروں کے ذریعے آتش زدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور بہت سے ممالک نے اپنے طیارے بھیجنے کی پیش کش کی ہے۔

طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے اسلامی جنگجوؤں اور حکومت نواز ملیشیا کے درمیان 13 جولائی سے لڑائی جاری ہے اور سوموار کو بھی طرابلس کے وسط میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔دونوں متحارب جنگجو گروپ ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر راکٹ گرینیڈوں اور توپوں سے حملے کررہے ہیں۔

طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد دوسرے ممالک نے اپنے سفارت خانوں کو بند کردیا ہے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔آج نیدرلینڈز ،فلپائن اور آسٹریا بھی اپنے سفارتی عملے کے انخلاء کی تیاری کررہے تھے۔امریکا ،اقوام متحدہ اور ترکی نے ہفتے کے روز وہاں تعینات اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔