.

مشرق وسطی میں انتہا پسندی پر چین کا اظہار تشویش

عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ہرطرح کی مدد کرینگے: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے مغربی علاقے سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند مسلمانوں کے بارے میں چین کے خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطی وو سیکے نے کہا ہے انتہا پسند عسکری تربیت کے لیے مشق وسطی گئے ہیں اور ممکن ہے عراق میں عسکریت کے لیے داخل بھی ہو گئے ہوں۔

اس سے پہلے بھی چین متعدد بار عراق میں بغاوت پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ خصوصاً جب سے داعش نے عراق و شام کے بعض علاقوں پر قبضے کے بعد اسلامی ریاست اور خلافت کا اعلان کیا ہے۔ داعش نے اپنا نام تبدیل کر کے اسلامی ریاست رکھ لیا ہے۔

چینی نمائندے وو سیکے نے خطے کے حالیہ دورے سے واپسی پر رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا '' ہم اس صورت حال پر سخت فکر مند ہیں کہ اتہا پسند گروہ شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں ۔''

انہوں نے مزید کہا '' مشرق وسطی میں ایسے کئی مراکز بن گئے ہیں جو انتہا پسندوں کو مواقع اور جگہ فراہم کر رہے ہیں، خصوصا شام کے بحران کی وجہ سے شام کی سرزمین ایسے انتہا پسندوں کے لیے تربیت گاہ بن گئے ہیں اور مختلف ممالک سے انتہا پسند یہاں آ رہے ہیں۔''

چینی نمائندے نے کہا ان انتہا پسندوں کا مسلم ممالک ، مغربی ممالک ، شمالی امریکا اور چین سے تعلق ہے، یہ اپنے ملکوں کے لیے بھی واپس جا کر ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔''

چین کے مغربی حصے سے تعلق رکھنے والے مسلم انتہا پسند اپنے علاقے میں ایک آزاد ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ مسلمان ترکی زبان سے منسلک ہیں۔

امریکی حساس اداروں کے اندازے کے مطابق سات ہزار سے 23 ہزار تک انتہا پسند شام میں لڑ رہے ہیں۔ اکثریت کا تعلق غیر ممالک سے ہے۔ جبکہ ان میں بڑی تعداد مغربی انتہا پسندوں کی ہے۔

چینی نمائندے نے کہا '' چین مشرق وسطی کے ملکوں کی مدد کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے، کیونکہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ چین کے بھی حق میں ہے۔ '' وو سیکے نے یہ بھی کہا '' چین خود بھی تشدد اور انتہا پسندی کے متاثرین میں شامل ہے۔