.

کیمرون :بوکو حرام نے نائب وزیراعظم کی اہلیہ اغوا کرلی

شمالی قصبے کولوفاٹا کا مئیر بھی اغوا،جنگجوؤں کے حملے میں تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے سخت گیر گروپ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے پڑوسی ملک کیمرون کے شمالی قصبے کولوفاٹا میں ملک کے نائب وزیراعظم کی اہلیہ کو اغوا کر کے لے گئے ہیں جبکہ ان کے حملے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔

بوکو حرام کے جنگجوؤں نے کولوفاٹا کے مئیر اور مقامی مذہبی رہ نما (لامیدو ) سینی بوکارلامین کو بھی ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے اغوا کر لیا ہے۔کیمرون کے ایک اعلیٰ عہدے دار عیسیٰ تشیروما نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''کولوفاٹا میں بوکو حرام کے جنگجوؤں نے اتوار کو نائب وزیراعظم عمادو علی کے گھر پر حملہ کیا ہے اور وہ ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے لے گئے ہیں''۔انھوں نے لامیدو کے گھر پر حملہ کرکے انھیں بھی اغوا کر لیا ہے اور اس کے حملے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔

کیمرون کے علاقے میں تعینات فوجی کمانڈر کرنل فلیکس نجی فورم کانگ نے اطلاع دی ہے کہ نائب وزیراعظم عید الفطر منانے کے لیے اپنے گھر پر ہی موجود تھے۔اب سکیورٹی حکام انھیں ایک پڑوسی قصبے میں لے گئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ بوکو حرام کے جنگجو کولوفاٹا ہی میں موجود ہیں اور ان کی فوج کے ساتھ جھڑپیں ہورہی ہیں۔

بوکو حرام نے حالیہ مہینوں کے دوران نائیجیریا سے سرحد پار کیمرون میں متعدد حملے کیے ہیں اور یہ حملے کیمرون کو ممکنہ طور پر سزا دینے کے لیے کیے جارہے ہیں کیونکہ اس نے بھی خطے میں جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے اپنے فوجی دستے تعینات کررکھے ہیں۔جمعہ کے بعد بوکو حرام کا کیمرون میں یہ تیسرا حملہ ہے۔پہلے دو حملوں میں کیمرون کے چار فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

قبل ازیں جمعہ کو کیمرون کے شہر مارعوآ میں مارچ سے قید بوکو حرام کے بائیس جنگجوؤں کو عدالت نے دس سے بیس سال کے درمیان قید کی سزاؤں کا حکم دیا تھا ۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بوکو حرام نے اپنے جنگجوؤں کو سنائی جانے والی سزاؤں کے ردعمل میں یہ حملے کیے ہیں یا اس کا محرک کوئی اور واقعہ ہے۔

ادھر نائیجیریا کے شمالی شہر کانو میں اتوار کو ایک کیتھولک چرچ پر بم حملے میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔شہر کے پولیس کمشنر کے مطابق حملہ آور نے گرجا گھر کی جانب ہفتہ وار عبادت کے لیے آنے والے افراد پر دستی بم پھینکا تھا۔پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن بوکو حرام کے جنگجو ایک عرصے سے نائیجیریا کے شمال میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔