طبقاتی تقسیم کا الزام، ایرانی وزیر سے باز پُرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے چند ارکان نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں حکومتی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی سے علاحدگی پسند، طبقاتی تقسیم کے رحجانات کو ہوا دینے اور مخلتف قومیتیوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو مزید گہرا کرنے پر ان سے باز پرس کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق رکن پارلیمنٹ علی رضا زاکانی جو وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی رضا فرجی دانا کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ "وزیر موصوف سے ضرور باز پرس کی جائے گی کیونکہ اسے ایران کی مختلف جامعات میں علاحدگی پسند خیالات کا ہوا دینے اور مختلف قومیتوں کے درمیان تنازعات کو فروغ دینے پر قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رضا زاکانی کا کہنا تھا کہ ایرانی جامعات میں علاحدگی پسندی اورانتشار کا پہلے ہی غیر معمولی رحجان پایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اس کے ان گنت شواہد بھی موجود ہیں۔ وزیر سائنس وٹیکنالوجی اپنے زیر انتظام اداروں میں کچھ ایسے فیصلے اور پرمٹ جاری کیے ہیں جن سے ملک میں انتشار کو ہوا ملی ہے۔

رکن پارلیمنٹ زاکانی نے وزیر سائنس وٹیکنالوجی سے مُطالبہ کیا کہ وہ قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے ملک میں اتحاد ویگانگت کی فضاء کو فروغ دیتے ہوئے انتہا پسندانہ رحجانات کی نفی کریں۔

خیال رہے کہ ایران میں حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان مختلف قومیتوں کے مابین تنازعات کا معاملہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے، جس میںحکومت اور پارلیمنٹ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ماضی میں بھی بعض اہم حکومتی عہدیداروں پر ملک کے مختلف طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی موجودہ وزیر سے پارلیمنٹ میں باز پرس کے لیے اقدام کیا گیا ہو۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ ایران میں مختلف قومیتوں کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ کوئی نیا نہیں۔ سابق بادشاہ اور موجود اسلامی جمہوری دور میں بھی ملک طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ گو کہ موجودہ صدر حسن روحانی نے اقلیتوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے کچھ اقدامات کیے ہیں۔ طبقاتی تقسیم کے رحجان کے خاتمے اور اقلیتوں کو انتخابی دھارے میں لانے کے لیے سابق انٹیلی جنس وزیر علی یونسی کی سربراہی میں ایک شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے جو اقلیتوں کے نمائندہ طبقات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں