لیبیا میں بنغازی کے فوجی اڈے پر اسلام پسندوں کا قبضہ

حکومت کا فوج اور جنگجوؤں سے لڑائی بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مرکزی ہوائی اڈے پر قبضے کی خاطر دو ملیشیا گروہوں کے مابین ہونے والی لڑائی میں خام تیل کے ایک ڈپو پر ایک راکٹ جا گرا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں آگ لگ گئی۔ حادثے کا شکار ہونے والے اس ڈپو میں چھ ملین لیٹر تیل اسٹور تھا۔ پیر کے دن اس آگ نے پھیلتے ہوئے قریب واقع تیل کی ایک دوسری تنصیب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

طرابلس حکام نے خبردار کیا ہے کہ يہ حادثہ کسی بڑے ’ماحولياتی و انسانی سانحے‘ ميں تبديل ہو سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ آگ مزید پھیلتی جا رہی ہے اور اندشیہ ہے کہ یہ قدرتی گیس کے اس بڑے ذخیرے کو بھی تباہ کر سکتی ہے، جہاں 90 ملین لیٹر گیس اسٹور ہے۔

لیبیا کی حکومت نے اس سانحے سے نمٹنے کے لیے عالمی امداد کی اپیل کر دی ہے تاہم اٹلی اور یونان نے کہا ہے کہ ان کے ماہرین صرف اس صورت میں لیبیا پہنچیں گے، جب وہاں جاری لڑائی تھمے گی۔ روم حکومت نے ایسی خبریں بھی مسترد کر دی ہیں کہ وہ اس تباہی پر قابو پانے کے لیے اپنے سات طیارے وہاں روانہ کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔

طرابلس میں اس حادثے کے نتیجے میں وہاں تیل کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ سیکورٹی کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے متعدد پیٹرول اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ منگل کے دن بھی حکام نے دارالحکومت میں جاری لڑائی کو ختم کرنے کی اپیل کی۔ وہاں تیرہ جولائی سے جاری لڑائی میں اب تک کم از کم سو افراد ہلاک جبکہ چار سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

طرابلس میں افراتفری اور عدم استحکام کی وجہ سے فرانس، پرتگال، ہالینڈ، کینیڈا اور بیلجیئم کی حکومتوں نے بھی وہاں سے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا ہے یا وہاں قائم اپنے سفارتخانے بند کر دیے ہیں۔

قبل ازیں امریکا ، جرمنی اور برطانیہ نے بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ طرابلس میں جنگجوؤں نے حملہ کرتے ہوئے سابق نائب وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شکور کو اغوا کر لیا ہے۔ وہ حال ہی میں ممبر پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔

طرابلس کے علاوہ لیبیا کے دوسرے سب سے بڑے شہر بن غازی میں بھی عسکری گروہوں میں تصادم جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسلام پسند ملیشیا کے گروہ نے لیبیا کی اسپیشل فورسز کو پسپا کرتے ہوئے وہاں مرکزی فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز وہاں ہونے والی لڑائی میں کم ازکم اڑتیس افراد مارے گئے۔

منگل کے دن بن غازی میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ فوجی ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ طیارہ تباہ کیا گیا ہے یا پھر کسی فنی خرابی کا شکار ہو کر کریش ہوا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ فائٹر جیٹ بن غازی میں اسلام پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

ادھر لیبیا کی حکومت نے مسلح فوج اور جنگجوؤں سے کئی ماہ سے جاری لڑائی جلد از جلد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت نے مسلح افواج کے زیر انتظام تمام فوجی یونٹوں کو لڑائی روکنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی باغیوں کی"بنغازی انقلابی مجلس شوریٰ" سے بھی کہا ہے کہ وہ حکومتی جنگ بندی کے اعلان کا احترام کرتے ہوئے فوج اور سیکیورٹی اداروں پرحملے روک دے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکومت سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے خصوصی صفحے پر ایک بیان میں بنغازی، طرابلس اور دوسرے شہروں میں جاری خانہ جنگی روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

قبل ازیں لیبیا کے عبوری وزیر اعظم عبداللہ الثنی اور وزیر داخلہ صالح مازق نے البیضاء شہر کا اچانک دورہ کیا تاہم ان کے دورے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں