کمسن افریقی طالبات سے برطانوی پائیلٹ کی مبینہ 'بدسلوکی'

آنجہانی ہواباز کے کرتوتوں پر برٹش ایئرویز کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی فضائی کمپنی کے ایک ہواباز کے ہاتھوں افریقا کے سکول اور یتیم خانے میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبات نے برٹش ایئرویز پر مقدمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امر کا اعلان طالبات کے وکیل نے کیا ہے۔

وکلاء نے مقدمے میں موقف اختیار کیا "کہ برطانوی فضائی کمپنی اپنے فرسٹ آفیسر سائمن وڈ کے ان مبینہ جرائم کی ذمہ دار ہے جن کا ارتکاب انہوں نے کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ میں اپنے عارضی قیام کے دوران کیا تھا۔"

یاد رہے 54 سالہ برطانوی ہواباز سائمن وڈ نازیبا حرکات اور تصاویر بنانے کی پاداش میں خود پر بننے والے مقدمے کی اگست 2013 میں سماعت سے دو ہفتے قبل سے ایک ٹرین حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

سولہ کمسن طالبات کی وکیل نیکولا مارشل نے بتایا کہ آنجہانی وڈ فضائی کمپنی میں ملازمت کی وجہ رفاح عامہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا تھا اور اس نے آٹھ سے بیس برس کی طالبات سے بدفعلی کے لیے اپنی اسی حیثیت کو استعمال کیا۔

نیوکلا مارشل نے بتایا کہ میری موکل بچیاں جن سکولوں اور یتیم خانوں میں داخل تھیں انہیں فضائی کمپنی سے خیراتی امداد ملتی تھی اور وڈ برٹش ایئر ویز کی طرف سے ان عطیات کے تصرف میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کی ایک ٹیم کینیا اور یوگنڈا میں ممکنہ طور پر دیگر متاثرہ افراد سے بھی ملاقات کرے گی۔"

برطانوی فضائی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں سائمن وڈ پر لگنے والے الزامات جان کر انتہائی 'صدمہ' اور 'دکھ' ہوا کیونکہ بچوں سے متعلق ان کی سرگرمیاں برٹش ایئر ویز میں ان کی ملازمت دائرہ کار سے بالکل ہٹ کر تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں