ترکی: قہقہے لگانے سے گریز کے مشورے پر ردعمل

ترک خواتین نے قہقہوں والی تصاویر ٹویٹ کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے نائب وزیراعظم کی طرف سے خواتین کو عوامی مقامات پر منہ کھول کر قہقہے لگانے سے گریز کرنے کا مشورہ سامنے آنے پر ترک خواتین کے ایک طبقے میں سخت رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس ردعمل کا اظہار کرنے کے لیے ایک ترک خاتون صحافی نے اپنی قہقہوں والی تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔ بعد ازاں اس خاتون صحافی نے دوسری خواتین کی بھی ایسی ہی تصاویر ری ٹویٹ کی ہیں۔ اس صحافیہ کے ٹویٹر پر تقریبا دس لاکھ فالورز ہیں۔

میلڈا اونور نے ترکی کی اپوزیشن جماعت کی رکن ہیں، نائب وزیراعظم کے الفاظ کو از سر نو ٹویٹ کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سرعام منہ کھول کر خواتین کے ہنسنے سے ان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

اپوزیشن نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ یہ آمرانہ انداز کی حکومت ہے جو لوگوں کی نجی زندگیوں میں مداخلت کرتی ہے۔ واضح رہے اس معاملے میں ترکی کے سیکولر اور قدامت پسند طبقات میں طویل عرصے سے نظریاتی تصادم ہے۔

اسی نظریاتی تصادم کے ماحول میں رجب طیب ایردوآن ان دنوں بارہویں صدارتی مدت کے لیے امیدوار کے طور پر میدان میں موجود ہیں۔

ترک نائب وزیراعظم نے جو وزیراعظم طیب ایردوآن کی جماعت کے شریک بانی ہیں،عید الفطر کی تقریبات کے موقع پر ترک روایات یاد دلاتے ہوئے خواتین کو مشورہ دیا کہ خواتین منہ کھول کر ہنسنے سے احتیاط کر کے اپنے عزت کا تحفظ کر سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں