مرشد اعلی کے پوتوں کی نماز عید میں کھیل کود

تصاویر کچھ دیر بعد نیوز ایجنسیوں کی ویب سائٹ سے غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے بڑے سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں اداروں نے عیدالفطر کے موقع پر مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک عیدگاہ میں نماز عید کی امامت اور ان کے دو کمسن پوتوں کو وہاں کھیل کود میں مصروف دکھایا گیا۔

مختلف خبر رساں اداروں نے یہ تصاویر کے کچھ ہی دیر بعد نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مُرشد اعلیٰ حسب سابق وسطی تہران میں عید کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے لیے پہنچے تو ان کے ہمراہ ان کے فرزند مجبتی خامنہ ای کا ایک بیٹا اور بیٹی بھی تھے۔ عین جب ان کے دادا [علی خامنہ ای] نماز کی امامت کرا رہے تھے کہ بچوں نے لوگوں کے سامنے اچھل کود شروع کر دی۔

رپورٹ کے مطابق کچھ دیر تک خبر رساں ایجنسیوں فارس، ایسنا، تسنیم، مہر اور نسیم نے اپنی رپورٹس میں خامنہ ای کے پوتوں کی عیدگاہ میں موجودگی کی تصویر شامل رکھیں مگر بعد میں صرف مرشد اعلیٰ کی امامت نماز کی تصویری خبر تو موجود ہے مگر اس میں سے بچوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خامنہ ای کی امامت کے دوران کھیل کود کرنے والے بچوں میں ایک کا نام باقربن مجبتی خامنہ ای ہے۔ اس کے نانا پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر سھر حداد عادل ہیں جو مرشد اعلیٰ کے مقرب خیال کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ مجبتیٰ خامنہ مرشد اعلیٰ کے سیاسی میدان میں متحرک کثیر الاود ایرانی سیاست دان ہیں۔ ان دونوں بچوں کو گذشتہ جمعۃ الوداع کے موقع پر تہران میں اپنے والدین کے ہمراہ "یوم القدس" ریلی مین شریک دیکھا گیا تھا۔ ایران کے مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے پہلی بار مجتبیٰ خامنہ ای کو اس کی اہلیہ کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں اہم شخصیات اور ان کی آل اولاد کی تصاویر کو صیغہ راز میں رکھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ بچوں کے اغواء کی سازش سے بچنا بھی سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں بڑے بڑوں کے بچوں کے بارے میں تفصیلات سامنے نہ آنے کے سے لوگ ان کی شکل کے بارے میں لاعلم رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں