شامی جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم طشت ازبام

مفرور شامی فوجی نے خوفناک تصاویر امریکی ایوان میں پیش کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی پارلیمںٹرینز نے شام کے وحشیانہ تنازع کی متعدد تصاویر گذشتہ روز ملاحظہ کیں جنہیں بشار الاسد کی فوج سے فرار ہونے والے ایک عینی شاہد نے بربنائے عہدہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا تھا۔

گذشتہ برس شام سے فرار سے ہونے والے ملٹری پولیس کے فوٹو گرافر 'قیصر' نے بتایا کہ "میں سیاستدان نہیں اور نہ ہی مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی ہے، نہ ہی میں قانون دان ہوں۔" وہ اپنے ساتھ 55،000 مردگان کی تصاویر کا ایک کیٹلاگ بھی لائے تھے، یہ تصاویر انہوں نے اپنی منصبی ذمہ داری کے طور پر کیمرے میں محفوظ کیں۔

قیصر نے کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے ناقابل شناخت بہروپ میں پیشی کے وقت بتایا کہ انقلاب سے پہلے اور بعد میں تمام ملہوکین کی تصویر بنانا میری ڈیوٹی تھی۔

انہیں مہلوکین کی بنائی گئی تصویریں اتار کر سرکاری کمپیوٹرز میں محفوظ کرنا ہوتی تھیں تاکہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف چار برس قبل شروع ہونے والی بغاوت کا دستاویزی ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔

قیصر نے اجلاس میں موجود تقریبا ایک سو افراد کو 'پن ڈراپ خاموشی' میں آگاہ کیا کہ میں نے انتہائی تشدد زدہ نعشوں کی تصویریں دیکھی ہیں۔ اجلاس کے دوران کمرے کی دیواروں پر بڑی سکرین پر برہنہ انسانی ڈھانچوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔

متعدد تصاویر میں نظر آنے والے ملہوکین کی شناخت خفیہ رکھنے کے لئے ان کے چہرے ڈھانپے گئے تھے جبکہ کئی نعشوں کی کلائیوں پر سفید لیبل باندھے ہوئے تھے۔ بعض مردگان صرف انڈر ویئر میں تھے جبکہ اکثر تصاویر مکمل عریاں ملہوکین کی تھیں۔

مترجم کی وساطت سے اپنے خیالات حاضرین تک پہنچاتے ہوئے قیصر نے 'زخموں سے چور، جلی کٹی لاشوں' کے بارے میں بتایا، ان میں بعض نعشوں کی آنکھیں نکال لی گئیں تھیں۔ متعدد ملہوکین کو فاقہ دے کر ان کے جسم اور روح کا رشتہ منقطع کیا گیا۔ قیصر نے بتایا کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں نازی دور کے علاوہ ایسی تصاویر کہیں نہیں دیکھیں۔

شناخت سے بچنے کے لئے گہرے نیلے رنگ کا چشمہ پہنے قیصر نے بتایا کہ بعض اوقات مجھے اپنے کسی ہمسائے اور دوست کی ایسی تصویریں بنانا پڑ جاتیں۔

"بشار الاسد کو اگر معلوم ہو گیا کہ میں نے یہ تصویر لیک کی ہیں تو موت میرا یقینی مقدر ہوتی۔" مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی عوامی بیداری کی تحریک کے بعد ابتک شام میں 170،000 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں ملک کے اندر اور دوسرے ممالک میں ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

ہاوس کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ ایڈ روئس کا کہنا تھا کہ اس تنازع سے ناقابل یقین انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔

قیصر نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر براک اوباما کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ وہ بچوں سمیت جیل میں دوسرے قیدیوں کو نہ بھولیں۔ میں نے درخواست کی تھی کہ وہ اسیران پر تشدد سے پہلے ان کی رہائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ڈیڑھ لاکھ افراد شامی جیلوں میں ہیں جنہیں تصاویر میں دیکھی جانے والی بے جان تصاویر جیسی تقدیر کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں