لبنان میں ای بولا وائرس سے بچاؤ کےلیے اقدامات

لائبیریا ،گنی اور سیرالیون کے مسافروں کے ہوائی اڈے پر معائنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی حکومت نے مہلک وائرس ای بولا سے بچاؤ اور اس کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

لبنانی وزیر صحت وائل ابو فوار نے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے دورے پر کہا ہے کہ ان کی وزارت نے تمام فضائی کمپنیوں کو بیرون ملک اور خاص طور پر تین افریقی ممالک سیرالیون ،گنی اور لائبیریا سے واپس آنے والے مسافروں کے بارے میں مطلح کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان میں ای بولا وائرس سے متاثرہ کسی بھی شخص کا فوری علاج کیا جاسکے اور اس مہلک وائرس سے متاثرین کو ہوائی اڈے کی حدود سے باہر جانے سے روکا جاسکے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ہوائی اڈے پر اٹھارہ ڈاکٹروں اور نرسوں پر مشتمل ٹیم تعینات کی گئی ہے اور فضائی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی مسافر میں ای بولا کی علامات پائی جائیں تو اسے ہوائی اڈے پر ہی اس طبی ٹیم کے حوالے کردیا جائے۔

درایں اثناء لبنان کی وزارت خارجہ نے بیرون ملک اپنے سفارت خانوں سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو ای بولا وائرس کے پھوٹ پڑنے کے حوالے سے مطلع کرتے رہیں اور اگر وہ واپس لبنان آنا چاہتے ہیں تو ان کو ہر ممکن مدد مہیا کی جائے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں تین افریقی ممالک سیرالیون، لائبیریا اور گنی میں ای بولا کا مہلک وائرس پھیلا ہے اور اس کے نتیجے میں جنوری سے اب تک سات سو تیس افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔سیرالیون میں قریباً بارہ ہزار ،لائبیریا میں ساڑھے چھے ہزار اور گنی میں ساڑھے تین ہزار لبنانی روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں۔

لبنان کی وزارت محنت نے اپنے طور پر ان تینوں افریقی ممالک کے باشندوں کو اپنے ملک میں کام کرنے کے اجازت ناموں کا اجراء روک دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ای بولا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔وزارت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ورکروں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور یہ فیصلہ پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔

ای بولا وائرس سے متاثرہ شخص کو سردی لگتی ہے،اعصاب اور سر میں شدید درد ہوتا ہے اور گلے اور سینے میں جلن ہوتی ہے،نزلہ اور زکام کے ساتھ بخار ہوجاتا ہے اور اس کا معدہ اور مثانہ متاثر ہوتا ہے جس کے بعد اس کا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔اس مرحلے پر پہنچنے والے مریض بالعموم موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اب تک اس مہلک وبائی مرض کی کوئی دوا یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔اس سال اب تک تیرہ سو افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔یہ مہلک وائرس 1976ء میں پہلی مرتبہ پھیلا تھا اور اس سے متاثر ہونے والے دوتہائی مریض جان کی بازی ہار گئے تھے لیکن اب اس کا شکار مریضوں کی شرح اموات کم ہو کر پچپن فی صد رہ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں