اسرائیل غزہ میں ہٹلری فاشزم پرعمل پیرا ہے:ایردوآن

صہیونی ریاست ہٹلر کی روح کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کو ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ہٹلر کی طرح کے فاشزم کا مظاہرہ کررہا ہے۔

وہ جمعرات کو ترکی کے مشرقی صوبہ وان میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ 2004ء میں ایک امریکی جیوش گروپ کی جانب سے ملنے والے ایوارڈ کو بھی واپس کرنے کو تیار ہیں۔انھوں نے امریکی یہودی گروپ کو مخاطب کر کے کہا:''اگر آپ سفاکیت ،نسل کشی ،ہٹلر کی طرح کے فاشزم اور بچوں کو قتل کرنے والے رجیم کی حمایت کرتے ہیں تو پھر اپنا ایوارڈ واپس لے لیجیے''۔

امریکی جیوش کانگریس نے ترک وزیراعظم کی کڑی تنقید کے بعد کہا ہے کہ وہ ایوارڈ واپس ہی کردیں تو بہتر ہے۔ایردوآن نے اسرائیل کا نازی ڈکٹیٹر کے تھرڈ ریخ سے موازنہ کیا ہے جس نے ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔

انھوں نے سوال کیا کہ ''اسرائیلی اقدامات اور نازیوں اور ہٹلر کے اقدامات میں کیا فرق ہے؟اسرائیلی ریاست غزہ اور فلسطین میں جو کچھ کررہی ہے،یہ اگر نسل کشی نہیں تو آپ اس کی کیا وضاحت کریں گے۔یہ نسل پرستی ہے،یہ فاشزم ہے اور یہ ہٹلر کی روح کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے''۔

ترک وزیراعظم غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے خلاف تندو تیز لب ولہجے میں بیانات دے رہے ہیں اور ان کی اس سخت کلامی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ان کے اس لب ولہجے کی وجہ سے اسرائیل اور امریکا ان سے ناراض ہوچکے ہیں لیکن وہ ان کی ناراضی کو کسی بھی طرح خاطر میں نہیں لارہے ہیں۔

وہ ترکی میں 10 اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران خود کو فلسطینی حقوق کے سب سے بڑے مؤید اور ہیرو کے طور پر پیش کررہے ہیں اور انتخابی ریلیوں میں کم وبیش روزانہ ہی اسرائیلی جارحیت کی مخالفت میں تقریریں کررہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکی یہودی گروپ رجب طیب ایردوآن پر صہیونی مخالف ہونے کے الزامات عاید کررہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا اور ترکی کا یہودیوں کے تحفظ کے لیے ریکارڈ بے داغ ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جب یہودیوں کو ان کے آبائی ممالک سے نکالا جارہا تھا تو ان کی مدد کو ہمارے آباء واجداد ہی آئے تھے۔یہ سلطنت عثمانیہ ہی تھی جس نے ان کو پناہ کی پیش کش کی تھی''۔وہ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین سے یہودیوں کی زبردستی بے دخلی کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے یہود سے سوال کیا کہ ''کیا آپ کو سُبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا؟آپ کتنے اخلاق سے گرے ہوئے ہو۔یہ ہم ہی تھے جنھوں نے اپنی سرزمین پر یہودیوں کو تحفظ مہیا کیا اور انھیں محفوظ طور پر زندہ رہنے کا حق دیا تھا''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان 31مئی 2010ء کو غزہ کی جانب جانے والے امدادی بحری جہازوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے کمانڈوز کے حملے کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔اس حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہوگئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔اب ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور ترک وزیراعظم کے اسرائیل کے خلاف سخت بیانات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں