.

غزہ میں نئی جنگ بندی بہت مشکل ہوگی:اوباما

حماس سے گرفتار کیے گئے اسرائیلی فوجی کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس پر زوردیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ ہونے کا ثبوت دے۔انھوں نے اسلامی تحریک مزاحمت سے جمعہ کو لڑائی کے دوران گرفتار کیے گئے ایک اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''اگر وہ (مراد حماس) اس صورت حال کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر وہ اسرائیلی فوجی کو غیرمشروط پر جتنا جلد ممکن ہو،رہا کردیں''۔

مسٹر براک اوباما کو جمعہ کے روز اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں شہید ہونے والے ایک سو زیادہ فلسطینیوں سے متعلق تو کوئی تشویش لاحق نہیں ہوئی ہے۔البتہ وہ نیوزکانفرنس کے دوران صہیونی فوجی کی بازیابی کے لیے ہلکان ہوئے جارہے تھے۔انھوں نے اسرائیلی فوج کو غزہ میں جارحیت سے باز رکھنے کے لیے بھی کوئی بات نہیں کی۔البتہ وہ حماس پر ہی زوردیتے رہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے اسرائیل اور عالمی برادری کوسنجیدہ ہونے کا ثبوت دے۔

ترکی کی حمایت

درایں اثناء ترکی نے اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے ہر ممکن مدد مہیا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اس فوجی کی رہائی کے سلسلہ میں ترکی اور قطر سے مدد طلب کی تھی۔

تاہم ترکی نے اس ضمن میں اپنی ترجیح کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے جنگ بندی کو بحال کیا جانا چاہیے۔ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''پہلے جنگ بندی کی بحالی کو یقینی بنائیں ،ہم اسرائیلی فوجی کی رہائی کے ایشو کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے''۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ نئی جنگ بندی پر اتفاق ایک چیلنج ہے مگر پھر بھی امریکا نئی جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکے لیکن ان کے نزدیک غزہ کے مکین اسرائیلی فوج کی براہ راست بمباری کا نشانہ نہیں بن رہے ہیں بلکہ کراس فائر کا نشانہ بن رہے ہیں اور انھیں بچانے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔

براک اوباما نے نیوز کانفرنس کے دوران اپنے وزیرخارجہ جان کیری کی بھی تعریف کی جو ان کے بہ قول جنگ بندی کے لیے بہت سخت محنت کررہے ہیں اور بعض اوقات انھیں غیر ضروری تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں جمعہ کو ابتدائی طور پر تین دن (72 گھنٹے) کے لیے جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس کے آغاز کے دو گھنٹے کے بعد ہی اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی حملے شروع کردیے تھے اور جنوبی قصبے رفح میں اس کے حملے کے نتیجے میں ساٹھ سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

اسی علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے ایک جھڑپ کے دوران دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک کو گرفتار کر لیا ہے۔تاہم حماس نے اس فوجی کو زندہ پکڑنے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی سفاکیت کے جواز کے لیے فوجی کی گرفتاری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔