.

برطانوی شہریوں کے لیبیا سے انخلاء کی کوششوں میں تیزی

شاہی بحریہ کا جہاز طرابلس کی بندرگاہ جلد روانہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سیکیورٹی کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں برطانیہ ملک میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے بحری فوج کا ایک جہاز لیبیا روانہ کر رہا ہے۔ یہ بات لیبی حکومت کے ایک ذریعے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ذرائع کے مطابق شاہی بحریہ کا جہاز 'مستقل قریب میں' لیبی بندرگاہ پہنچے گا تاکہ لیبیا چھوڑنے کے خواہش مند برطانوی اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کو واپس لا سکے۔

درایں اثناء برطانوی ٹی وی سکائی نیوز نے خبر دی ہے کہ برطانیہ کا سروے جہاز HMS Enterpreise لیبی ساحل پر پہنچنے والا ہے اور توقع ہے کہ یہ جہاز اتوار کے طرابلس سے واپس روانہ ہو گا۔

شاہی بحریہ کے خصوصی مسلح میریز دستوں کی حفاظت میں طرابلس بندرگاہ بھجوائی جانے والی لانچ کے ذریعے انخلاء کے خواہش مند افراد کو جمع کیا جائے گا تاکہ انہیں بعد میں برطانیہ بھجوانے کی خاطر HMS Enterpreise جہاز پر منتقل کیا جا سکے۔

لیبیا میں برطانوی سفیر مائیکل ایرون نے جمعہ کے روز ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے مقامی لڑائیوں کی وجہ سے 'با دل ناخواستہ' لیبیا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے برطانوی شہریوں کے انخلاء کے طریقہ کار پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ انخلاء کے لیے سنہ 2011ء کے آپریشن سے ملتا جلتا طریقہ کار اختیار کیا جائے جیسا کہ لیبیا کے مقتول مرد آہن معمر قذافی کی اقتدار سے بیدخلی کے وقت شاہی بحریہ کے جہاز نے غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کے لئے اختیار کیا تھا۔

برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ لیبیا میں قونصلر سروسز معطل کرنے سے پہلے ملک میں مقیم متعدد برطانوی شہریوں کی وطن واپسی میں مکمل مدد فراہم کرے گا۔ "آپریشنل وجوہات کی بناء پر ہم اس سے زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتے ہیں کہ وزارت دفاع ان حالات میں کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔"

معمر قذافی کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد سے لیبیا میں سیکیورٹی کے حالات انتہائی خراب ہیں جبکہ نئی حکومت بھی ان باغی ملیشیائوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ لیبی حکومت کو اسلام پسند تنظیموں کی جانب سے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے دوران کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو لیبیا چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ابتک کئی ممالک نے یہ آپریشن مکمل بھی کر لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لیبیا میں 100 سے 300 برطانوی شہری مقیم ہیں جبکہ برطانوی قونصل خانے کے عملے کی بڑی تعداد واپس بھجوائی جا چکی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے" لیبیا میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے پیش نظر ہم برطانوی شہریوں کی مدد کے بعد طرابلس میں برطانوی سفارتخانے کے آپریشنز معطل کر رہے ہیں۔"

"برطانوی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو لیبیا کا سفر اختیار نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وہاں موجود اپنے شہریوں کو ہر مکمن طریقے سے واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا۔"