.

داعش کا عراق کے سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ

دوشمالی قصبوں زمار اور سنجار سے کرد سکیورٹی فورسز کو پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے عراق میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اتوار کو انھوں نے خانہ جنگی کا شکار ملک کے سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ ان کے ساتھ لڑائی کے بعد کرد سکیورٹی فورسز کے اہلکار تیل کے ایک کنویں اور دو قصبوں کو خالی کرکے چلے گئے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں کے ڈیم پر قبضے کو ان کی اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ وہ اب عراق کے بڑے شہروں کو ڈبونے کی بھی دھمکی دے سکتے ہیں۔انھوں نے دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی دھمکی دے رکھی ہے اور اب ڈیم پر قبضے کے بعد وہ اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

درایں اثناء داعش کے جنگجوؤں نے شمالی عراق میں دوقصبوں زمار اور سنجار سے کرد سکیورٹی فورسز کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا ہے اور ان دونوں قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔زمار اور سنجار شمالی شہر موصل اور خودمختارشمالی علاقے کردستان کے نزدیک واقع ہیں۔

قبل ازیں داعش کے جنگجوؤں نے کرد سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کے بعد زمار کے نزدیک واقع تیل کے ایک کنویں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔دولت اسلامی نے شام کی سرحد کے ساتھ واقع عراق کے دیہات کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر چلے جائیں۔عینی شاہدین کا کہناہے کہ انھوں نے بظاہر علاقے میں ایک بڑی کارروائی کے پیش نظر یہ ہدایت جاری کی ہے۔

عراقی حکام کے مطابق ہفتے کے روز اس علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں سولہ کرد فوجی اور حکومت نواز ملیشیا کے تیس اہلکار مارے گئے تھے۔زمار موصل کے شمال مغرب میں واقع ہے اور یہ قصبہ عراق کی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں آتا ہے لیکن جون میں اس پر کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے قبضہ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ داعش نے مقامی مسلح قبائل اور دوسرے گروپوں کی مدد سے 10 جون کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد سے انھوں نے پورے صوبہ نینویٰ سمیت پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔داعش کی اس پیش قدمی کے دوران البیش المرکہ نے کرد آبادی والے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا،جن پر خودمختار کردستان کا بغداد کی مرکزی حکومت کے ساتھ تنازعہ چلا آرہا ہے لیکن اب وہ داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بعد وہاں سے پسپا ہورہے ہیں۔