سوڈان:حزبِ اختلاف کا عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کی ایک بڑی اپوزیشن جماعت نے ملک کو درپیش مختلف بحرانوں کے حل کے لیے عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

''اب اصلاحات''(ریفارم نَو) نامی اس جماعت نے سوموار کو مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر عمر حسن البشیر کی جانب سے بلائے گئے قومی سیاسی مباحثے کی سفارشات کی روشنی میں عبوری انتظامیہ کو اقتدار سونپا جانا چاہیے۔

ریفارم نَو کے نائب سربراہ حسن عثمان رزیق نے خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آیندہ سال انتخابات منعقد کرانے کے اعلان پر بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے اور یہ انتخابات مسلط نہیں کیے جانے چاہئیں۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا بیان پڑھ کر سنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ''ہمارا ان انتخابات سے کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ انتخابات پر قومی مباحثے میں اتفاق رائے ہونا چاہیے''۔

حزب اختلاف نے صدر عمر حسن البشیر کی دعوت پر سوڈان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قومی ڈائیلاگ میں حصہ لیا تھا۔اب اس کا کہنا ہے کہ سیاسی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے عبوری انتظامیہ کے قیام اور 2015ء میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق اس کے مطالبات پورے کیے جائیں۔

اسی پریس بریفنگ میں موجود ایک اور سوڈانی جماعت امن فورم کے رہ نما طیب مصطفیٰ نے کہا کہ ''اگر ہمارے یہ مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہیں تو ہم قومی ڈائیلاگ سے دستبردار ہوجائیں گے''۔طیب مصطفیٰ سوڈانی صدر عمر البشیر کے رشتے میں چچا لگتے ہیں لیکن وہ ان کی حکومت کے مخالف ہیں اور وہ اس کو ''فوجی آمریت '' قرار دیتے ہیں۔

حزب اختلاف کے ان دونوں رہ نماؤں نے مجوزہ عبوری حکومت کی ہئیت ترکیبی کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے اور صرف اتنا کہا ہے کہ اس میں اہل اور آزاد وزراء شامل ہونے چاہئیں۔صدر عمر البشیر نے جنوری میں قومی ڈائیلاگ کا اعلان کیا تھا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

ان کی حکومت نے اس قومی ڈائیلاگ کے نتیجے میں ملک میں زیادہ سیاسی آزادیاں دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود سیاسی شخصیات کی پکڑ دھکڑ اور پریس سنسر شپ جاری ہے جس کی وجہ سے حکومت کے تبدیلی کے لیے عزم کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

''اب اصلاحات پارٹی'' نے جولائی میں قومی ڈائیلاگ سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی اور کہا تھا کہ ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے لیکن معروف بزرگ اسلامی رہ نما حسن ترابی کی قیادت میں پاپولر کانگریس پارٹی ابھی تک اس عمل میں شریک ہے اور اس کا کوئی رہ نما آج کی نیوزکانفرنس میں بھی موجود نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں