سعودی عرب: حج سے قبل ویت نامی، نیپالی خادماؤں کی بھرتی

بھارت سے سعودی عرب کے لیے گھریلو خادماؤں کی بھرتی کا عمل شروع ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے لیے بہت جلد دوایشائی ممالک ویت نام اور نیپال سے گھریلو خادماؤں کی بھرتی شروع کی جارہی ہے۔

سعودی عرب کے نائب وزیرمحنت مفرج الحقبانی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''اکتوبر میں حج سیزن سے قبل گھریلو خادماؤں کی بھرتی کے سلسلہ میں مذکورہ دونوں ایشیائی ممالک سے معاہدے کیے جائیں گے۔ویت نامی حکام نے اس سلسلے میں سعودی عرب کے دورے کی درخواست کی تھی،ان کی یہ درخواست قبول کر لی گئی ہے اور وہ بہت جلد یہاں آرہے ہیں''۔

نائب وزیرمحنت کے مطابق نیپال سے گھریلو خادماؤں کی درآمد کے طریق کار کو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا اور جونہی اس ضمن میں سمجھوتوں پر دستخط ہوتے ہیں اور ان کی توثیق کردی جاتی ہے تو خادماؤں کی سعودی عرب آمد شروع ہوجائے گی۔

مفرج الحقبانی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ویت نام اور نیپال کے ساتھ سمجھوتوں سے لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔نیز کسی بھی قسم کے مسائل کے بروقت حل کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں بھارت سے گھریلو خادماؤں کی بھرتی کا عمل شروع کیا ہے۔نائب وزیرمحنت نے بتایا کہ سعودی آجروں نے بھارتی خادماؤں کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ غیرملکیوں کی بھرتی کے لیے کام کرنے والے نجی دفاتر نے رمضان کے وسط میں غیرملکی افرادی قوت کی درآمد میں درپیش مشکلات کے حوالے سے وزارت محنت کو ایک جامع مطالعاتی رپورٹ پیش کی تھی۔اس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ وزارت محنت لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے میں کیا تعاون کرسکتی ہے۔

حقبانی کا کہنا تھا کہ وزارت اس مطالعاتی رپورٹ کا جائزہ لے گی اور بھرتی دفاتر کو بہت جلد اپنے ردعمل سے آگاہ کرے گی۔نیز وزارت ان دفاتر کی مکمل سرپرستی کرے گی اور ان کو درپیش کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں