.

''ایران نے حماس کو دفاعی میزائل ٹیکنالوجی دی تھی''

حماس جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں کو پکڑے: محسن رضاعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ ''حماس اسرائیل تک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے کیونکہ تہران نے اس مزاحمتی گروپ کو اسرائیلی حملوں سے دفاع کے لیے ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی مہیا کی ہے''۔

ایران کے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل 'العالم' نے مشاورتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضاعی کا یہ بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ حماس کو غزہ کی آبادی کو اسرائیلی حملوں سے بچاؤ کے لیے زیرزمین سرنگیں کھودنی چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ ''فلسطینیوں کے مزاحمتی میزائل ایران کی منتقل شدہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہیں۔ہمیں فلسطینیوں کو دفاعی اور فوجی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ محاصرے میں ہتھیار تیار کرسکیں اور اپنا دفاع کرسکیں''۔

محسن رضاعی ایران کے انقلابی گارڈز کے سابق چیف کمانڈر رہے ہیں۔انھوں نے حماس پر زوردیا ہے کہ وہ لڑائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کرے تاکہ ان کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں سودے بازی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو اسلحہ مہیا کرنے میں مدد دیں تاکہ وہ اسرائیل کے مقابلے میں اپنا دفاع کر سکیں۔ واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کے مخالف فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو امداد مہیا کرتا رہتا ہے۔