.

اسلامی عسکریت پسندی: امریکا، تیونس کو ہیلی کاپٹر دے گا

الیکشن سے پہلے عسکریت پسند سرگرم ہو سکتے ہیں، صدر مرزوقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا تیونس کو جدید ترین ہیلی کاپٹر فروخت کرے گا اور اس سلسلے میں ان دنوں تیاری کا عمل جاری ہے۔ امریکا شمالی افریقہ کے اس اہم ملک کی اسلامی انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف مدد کرنے کا خواہاں ہے۔

تیونس کے صدر منصف مرزوقی نے اس امر کا اظہار واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا" ہمیں امریکی ہیلی کاپٹروں کی سخت ضرورت ہے۔"

دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت تیونس کو 700 ملین ڈالر مالیت کے 12 یو ایچ ۔ 60 ایم بلیک ہاک ہیلی کاپٹر دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

اس حوالے سے پچھلے ماہ کے اواخر میں دفاعی سلامتی کے تعاون کے ادارے کو ایک اطلاع بھیجی گئی ہے۔ واضح رہے امریکا کا یہی ادارہ دوسرے ملکوں کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کا ذمہ دار ہے۔

توقع ہے یہ ہیلی کاپٹر ہیل فائر میزائلوں، مشین گنوں اور دوسرے جدید اسلحے سے سے لیس ہوں گے۔ تاہم اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہو گی۔

اس سے پہلے امریکا یہ ہیلی کاپٹر عراق کو فراہم کر چکا ہے۔ واضح رہے تیونس ہی وہ عرب ملک ہے جہاں سے عرب بہاریہ کا 2011 میں آغاز ہوا اور پھر عوامی مزاحمت کی یہ تحریک دوسرے ملکوں میں بھی منتقل ہونے لگے۔

ان دنوں تیونس کو القاعدہ کے حملوں کا سامنا ہے جن میں القاعدہ سے منسلک انصار الشرعیہ نامی گروپ اہم ترین ہے۔ ماہ اپریل سے تیونس کے فوجی دستے پہاڑی علاقے چمبی میں تعینات کیے گئے ہیں جو کہ الجزائر سے جڑا ہوا ہے۔

تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے صدر منصف مرزوقی نے کہا" ہم نہیں سمجھتے کہ تیونس شام کی طرح کا کوئی ملک بننے جارہا ہے۔ تاہم تیونس کی فوج کو جدید اسلحے کے علاوہ جدید آلات کی بھی ضرورت ہے جن میں نائٹ ویژن بھی اہم ہیں۔"

تیونس میں 2012 کے دوران امریکی سفارت خانہ حملے کا نشانہ بن چکا ہے۔ صدر نے کہا تھا کہ الیکشن سے پہلے تیونس میں دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کو از سر نو شروع کر سکتے ہیں۔