.

امریکی تفتیشی 'حربوں' پر مبنی رپورٹ پر ردعمل کا خطرہ

ردعمل مشرق وسطی سمیت ان ملکوں میں ہو سکتا ہے جہاں CIA متحرک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے دنیا کے بعض ملکوں میں اپنے سفارتخانوں کی سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دوران تفتیش تشدد کے تھرڈ ڈگری طریقے استعمال کرنے کی اس رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے کیا گیا ہے جسے سینیٹ میں پیش کیا گیا پے۔

خیال رہے اس رپورٹ کا کافی مدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی سے متعلق حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ''اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے ان ممالک میں رد عمل سامنے آ سکتا ہے جہاں سی آئی اے متحرک ہے، اس لیے اضافی حفاظتی اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں۔''

انسانی حقوق کے ادارے اور بعض سیاستدان امریکی حساس اداروں کے دوران تفتیش پر تشدد حربوں کے خلاف ہیں۔ البتہ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے پہلے موقف سے ہٹ کر حساس اداروں کے تفتیشی حربوں کی تائید کی ہے۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان سفارتخانوں کی نشاندہی کرنے سے انکار کیا ہے جن کی سکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک امریکی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ پر تشدد تفتیشی حربوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں تو مشرق وسطی میں رد عمل کا آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ ہو گا۔

نیز یہ بھی خدشہ ہے کہ بعض غیر ملکی حساس ادارے سی آئی اے کے ساتھ اپنا تعاون کم کر سکتے ہیں۔ غیر خفیہ سرکاری دستاویزات کے مطابق امریکی حساس ادارے جن جگہوں کو خفیہ جیلوں اور تفتیشی مراکز کے طور پر استعمال کرتے تھے اب غیر فعال کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے امریکی سی آئی اے کے آر ڈی آئی پروگرام پولینڈ، رومانیہ، تھائی لینڈ، افغانستان اور گوانتانامو بے میں بروئے کار ہے اور ان ملکوں میں ایسے مراکز قائم ہیں۔ البتہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کئی سال پہلے کی بات ہے۔

ان ذرائع کا خیال ہے کہ اس رپورٹ سے مسلم دنیا میں بطور خاص غم و غصے کی لہر ابھر سکتی ہے کیونکہ زیادہ تر متاثرہ نوجوانوں کا مسلم دنیا سے ہی تعلق ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اصل رپورٹ میں متعلقہ ملکوں کے اصل نام دیے گئے تھے لیکن اب ناموں میں ہیرا پھیری کا انداز اختیار کر کے فرضی نام دیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی سینیٹ کمیٹی کے اس رپورٹ کو دیکھے والے تمام ارکان نے اس بارے میں امریکی تجاوزات کو محسوس کیا ہے اور ان تجاوزات کو حد سے زیادہ قرار دیا ہے۔

نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمس کلیپر نے کہا ہے اس رپورٹ کا 85 فیصد حصہ غیر خفیہ کیا جا چکا ہے جبکہ پچاس فیصد از سر نو تیار کردہ مواد کا حاشیہ موجود ہے۔ اس بارے میں سینیٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔