.

سعودی عرب میں ای بولا وائرس سے پہلی موت

حال ہی میں سیرالیون سے جدہ لوٹنے والا کاروباری شخص زندگی کی بازی ہار گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں براعظم افریقہ کے مغربی ممالک میں پھیلنے والے مہلک وائرس ای بولا کا شکار ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔

سعودی وزارت صحت نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ متوفی چالیس کے پیٹے میں تھا۔وہ حال ہی میں سیرالیون کے کاروباری دورے کے بعد جدہ لوٹا تھا اور اس کو ای بولا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد جدہ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔تین افریقی ممالک سیرالیون ،گنی اور لائبیریا میں وبائی شکال اختیار کرنے والے مہلک وائرس ای بولا سے کسی عرب ملک میں یہ پہلی موت ہے۔

درایں اثناء جنیوا میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کا ایک ہنگامی اجلاس ہورہا ہے جس میں اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تدابیر پرغور کیا جارہا ہے۔

چار افریقی ممالک میں اس سال فروری کے بعد اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں قریباً نو سو اموات ہوچکی ہیں اور سولہ سو سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔عالمی بنک نے گنی ،لائبیریا اور سیرالیون میں ای بولا کے وائرس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امداد کے طور پر بیس کروڑ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے سوموار کو ان تینوں افریقی ممالک میں ای بولا وائرس کے پھیلنے کے بعد ان کے شہریوں کو عمرے اور حج کے لیے ویزوں کے اجراء پر پابندی عاید کردی ہے۔اس ضمن میں سعودی عرب کے تمام داخلی راستوں پر متعین حکام کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور ای بولا کی تشخیص اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارت صحت کے اہلکاروں کو بھی ضروری تربیت دی گئی ہے۔

ای بولا وائرس سے متاثرہ شخص کو سردی لگتی ہے،اعصاب اور سر میں شدید درد ہوتا ہے اور گلے اور سینے میں جلن ہوتی ہے،مریض کو نزلہ اور زکام کے ساتھ بخار ہوجاتا ہے۔اس دوران اگر اس کا معدہ اور مثانہ متاثر ہوجائے تو پھراس کا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔اس مرحلے پر پہنچنے والے مریض بالعموم موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اب تک اس مہلک وائرس سے لاحق ہونے والے وبائی مرض کی کوئی دوا یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔یہ مہلک وائرس 1976ء میں پہلی مرتبہ پھیلا تھا اور اس سے متاثر ہونے والے دوتہائی مریض جان کی بازی ہار گئے تھے لیکن اب اس کا شکار مریضوں کی شرح اموات کم ہو کر پچپن فی صد رہ گئی ہے۔