.

فلسطینیوں پراسرائیلی پابندیاں بلاجواز ہیں:برطانوی کمیٹی

برطانیہ اور یورپ فوری طور پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے تحفظ کے نام پر اسرائیل کی پابندیوں کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جاسکتا ہے۔

برطانوی پارلیمان کی بین الاقوامی ترقی کمیٹی میں شامل ارکان نے اپنی رپورٹ اسرائیل کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ ''مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر پابندیاں صہیونی ریاست کی سکیورٹی ضروریات کے پیش نظر عاید کی گئی ہیں اور سکیورٹی ہی کی بنیاد پر ان کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے''۔

بدھ کو جاری کردہ اس رپورٹ میں مغربی کنارے کے شہر الخلیل کی صورت حال پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔انھوں نے لکھا:''ہم نے الخلیل کے دورے میں جو کچھ دیکھا،اس پر ہکا بکا رہ گئے۔ہم اسرائیل کی سکیورٹی سے متعلق تشویش کو سراہتے ہیں ،لیکن اس کی بنیاد پر الخلیل میں فلسطینیوں پر عاید کردہ موجودہ پابندیوں کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ ان پابندیوں سے ان کے روزمرہ زندگی کے معمولات ،اقتصادی ترقی اور سلامتی متاثر ہورہی ہے''۔

پارلیمان کی یہ کمیٹی برطانیہ کی بین الاقوامی ترقی کی وزارت کی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمے دار ہے۔اس نے لندن اور یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ فوری طور پر ان پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائیں کیونکہ ان پابندیوں سے اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں''۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول والے علاقوں میں فلسطینیوں پر کاروبار میں سرمایہ لگانے پر عاید پابندیوں کی برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی جانب سے ضرور مخالفت کی جانی چاہیے''۔

رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں غزہ میں جاری تنازعے کے باوجود پانی تک زیادہ رسائی دی جانی چاہیے اور تعمیرات سے متعلق اجازت ناموں کا معاملہ بھی طے کیا جائے۔

کمیٹی نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل ان پابندیوں کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک اسرائیلی حکام پر یہ زور دیں کہ ان کے لیے موجودہ صورت حال قابل قبول نہیں ہے۔

کمیٹی نے برطانوی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کی فروخت سے متعلق وضع کردہ رہ نما اصولوں پر پرچون فروشوں کی طرف سے عمل درآمد کا جائزہ لے تاکہ صارفین انھیں خرید کرنے سے گریز کرسکیں۔

برطانوی پارلیمان کی کمیٹی کی یہ رپورٹ پاکستانی نژاد برطانوی بیرونیس سعیدہ وارثی کے وزارت سے استعفے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔انھوں نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ غزہ پر برطانوی حکومت کی ناقابل دفاع پالیسی کی مزید حمایت نہیں کرسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت میں ناکام رہی ہے۔