.

کابل میں امریکی جنرل ہلاک، پینٹاگان نے تصدیق کر دی

افغان فوجی کی مشین گن سے فائرنگ، جرمن جنرل سمیت 14 غیر ملکی فوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے افغانستان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں اپنے ایک جنرل کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر غیرملکی فوجوں کی چڑھائی کے بعد کسی اعلیٰ امریکی فوجی عہدے دار کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

پینٹاگان نے منگل کو واشنگٹن میں جاری کردہ ایک بیان میں حملہ آور کی شناخت بھی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ افغان فوج کی وردی میں ملبوس تھا۔اس نے امریکی جنرل اور دوسرے اتحادی افسروں پر مشین گن سے فائرنگ کردی اور اسے بھی موقع پر ہی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان فوجی نے دارالحکومت کابل میں واقع فوج کے ایک تربیت مرکز میں مشین گن سے امریکا کے میجر جنرل اور دوسرے اتحادی فوجیوں پر فائرنگ کی ہے جس سے امریکی جنرل موقع پر ہی ہلاک ہوگیا اور ایک جرمن جنرل سمیت چودہ اتحادی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو کے تحت تعینات بین الاقوامی فورس ایساف نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ افغان دارالحکومت میں برٹش ملٹری ٹریننگ اکیڈیمی میں یہ حملہ ہوا تھا جس میں ایساف کا ایک رکن ہلاک ہوگیا اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ ایساف کے بیان میں مرنے والے فوجی افسر کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔

جرمن فوج نے حملے میں اپنے ایک جنرل سمیت چودہ اتحادی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جرمن جنرل کے زخم جان لیوا نہیں ہیں اور وہ اس وقت زیرعلاج ہیں۔افغان حکام کے مطابق زخمیوں میں سات امریکی اور پانچ برطانوی فوجی شامل ہیں۔

افغان وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اتحادی فوج کا وفد ملٹری اکیڈیمی میں سکیورٹی فورسز کی تربیت کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے آیا تھا۔دوپہر بارہ بجے افغان فوجی وردی میں ملبوس ایک دہشت گرد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔بیان میں واقعہ کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

ادھر افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا میں بھی پولیس کی وردی میں ملبوس ایک حملہ آور نے اسی انداز میں غیرملکی فوجیوں اور افغان فورسز پر فائرنگ کی ہے اور اس واقعہ میں متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم ان کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

مغربی صوبے ہرات میں نیٹو کے ایک جنگی طیارے نے ایک گاڑی پر حملے میں نشانہ بنایا ہے اور اس میں سوار ایک ہی خاندان کے چار افراد مارے گئے ہیں۔ہرات کے نائب گورنر اصیل الدین جامع نے نیٹو طیارے کے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت سے متعلق کابل میں ایوان صدر کو مطلع کردیا گیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والا خاندان ضلع شین ڈنڈ میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہا تھا۔مرنے والوں میں دوبچے بھی شامل ہیں۔