حماس نہیں، اہل غزہ سے ہمدردی ہے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ اُنہیں فلسطینی تنظیم حماس سے نہیں بلکہ غزہ کے عوام سے ہمدردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا، فلسطین ۔ اسرائیل طویل جنگ بندی کا خواہاں ہے تا کہ غزہ کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسرائیلیوں کو راکٹ حملوں کے خوف سے نکالا جا سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر نے یہ بات افریقا۔امریکا سربراہ کانفرنس کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ نیوز کانفرنس میں ایک صحافی نے باراک اوباما سے پوچھا کہ ان کا جنگ سے تباہ حال غزہ کے بارے مین تازہ موقف کیا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا، حماس اور اسرائیل کے درمیان عبوری فائر بندی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بند ہو اور جنگ سے تباہ حال کی تعمیر نو کا عمل جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ اُنہیں حماس سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ صرف غزہ کے جنگ زدہ عوام ہمدردی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو اب یہ ادراک کر لینا چاہیے کہ غزہ کی پٹی کو عالمی برادری سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ غزہ کے عوام کے لیے دوبارہ بہتر زندگی کی شروعات کے لیے دیرپا قیام امن ضروری ہے۔ جب تک امن قائم نہیں ہو گا تب تک غزہ میں تعمیر نو شروع ہو سکتی ہے اور نہ ہی زندگی معمول پرآ سکتی ہے۔

باراک اوباما کا کہنا تھا کہ تباہ حال غزہ کی تعمیر نو اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دی جائے اور متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ جان کیری جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے حوالے سے فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ جنگ بندی معاہدے مین فلسطین اتھارٹی کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے کردار کی بھی تعریف کی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ غزہ جنگ کے معاملے میں صدر عباس کا موقف کمزور رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس کو چاہیے کہ وہ صرف غزہ ہی میں نہیں بلکہ غرب اردن کے علاقوں میں بھی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ امریکی صدرکا کہنا تھا کہ محمود عباس، اسرائیل سے امن بات چیت اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں