خواتین 'حیا دار' لباس پہن کر چرچ آئیں: مذہبی پیشوا

عیسائی خواتین کا قبطی عیسائی پیشوا کے فیصلے پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں قبطی عیسائیوں کے ایک مذہبی پیشوا نے ٹراوزر پہننے اور سرخی پاوڈر لگا کر چرچ آنے والے خواتین کے کلیساء میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

شمالی گورنریوں کے ایک قبطی کلیسا کے اس فیصلے کے خلاف خواتین نے قاہرہ کے عباسیہ قبطی کیتھرڈل کے باہر مظاہرہ کیا، تاہم اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے مظاہرہ کرنے والی یہ خواتین اچانک کلیسا کے اندر داخل ہوئیں تو اس وقت پوپ تواضرس دوئم کا خطاب جاری تھا۔ خواتین نے پوپ تواضرس سے مطالبہ کیا کہ وہ ماتحت کلیسا کے فیصلے کا نوٹس لیں۔

پوپ تواضرس نے احتجاج کرنے والی خواتین کو اپنے پلے کارڈ نیچے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ معاملے پر غور کر رہے ہیں۔'

مصر کے مقبول عام آن لائن پورٹل 'الاہرام آن لائن' نے خبر دی تھی کہ دمیاط اور کفر الشیخ کے قبطی عیسائی پیشواوں نے کلیساوں میں تحریری نوٹس آویزاں کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے تحت 'گیارہ برس سے کم عمر کی بچیوں اور خواتین کو عبادت کے لیے آتے وقت سرخی پاوڈر لگانے سے گریز اور ٹراوزر، بلاوز پہننے سے منع کیا گیا تھا۔'

بشپ بش ہوئے سنہ 2012 میں بھی خواتین کے لباس سے متعلق رائے زنی کر چکے ہیں۔ الاہرام آن لائن نے ان کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ "بعض عیسائی خواتین ان سے نالاں ہوں گی، تاہم حضرت مریم، سینٹ ڈیمیانہ اور عیسائی راہبائیں حیادار لباس پہنتی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں