غزہ کی آخری بار تعمیر کریں گے: بین کی مون

"حالیہ شرمناک تباہ کاری نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بین کی مون نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی جاری جنگ میں شہریوں کے 'احمقانہ اور بلا جواز' قتل کو روکا جائے۔

عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بین کی مون نے کہا ''شہریوں کا قتل عام اور غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی دنیا کے لیے شرمناک ہے اور اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ '' انہوں نے دنیا پر زور دیتے ہوئے کہا ''غزہ کی تعمیر نو کا بھاری بھرکم کام کرنے کےلیے آگے بڑھے اور مدد کرے۔''

اسرائیل کہ وحشیانہ بمباری سے تباہ حال غزہ کے بارے میں بین کی مون نے کہا ''ہم اسے دوبارہ تعمیر کریں گے۔'' تاہم انہوں نے اس موقع پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ اس تباہی کے ذمہ دار اسرائیل کو سزا کون اور کب دے گا، البتہ انہوں یہ ضرور کہا کہ "غزہ کی یہ تعمیر اب آخری بار ہو گی۔"

جنرل اسمبلی کے 193 رکن ملکوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا ''تباہی کا یہ سلسلہ اب ضرور رک جانا چاہیے۔'' سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا ''ہم ایسی کسی کوشش کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو موجودہ جنگ بندی کو پائدار جنگ بندی میں تبدیل کرے اور تصادم کی وجوہ کا علاج کرے۔''

انہوں نے کہا ''اس مقصد کے لیے غزہ میں اسلحہ کی سمگلنگ، راکٹ فائرنگ، راہداریوں کا کھولا جانا، اسرائیلی محاصرے کا خاتمہ اور غزہ کو فلسطین کی مشترکہ حکومت کے تحت لانا ضروری ہے۔''

بین کی مون نے حماس سے کہا کہ ماضی میں یاسر عرفات کی تنظیم آزادی فلسطین 'پی ایل او' نے جو وعدے اور معاہدے کر رکھے ہیں ان کی پاسداری کی جائے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے شعبے کے سربراہ کیونگ وا کانگ نے کہا ''اقوام متحدہ اور اس کے پارٹنرز نے غزہ کے 5 لاکھ متاثرین کے لیے فوری طور پر 367 ملین ڈالرز کی امداد کی اپیل کی ہے۔''

ان کے مطابق غزہ کی مجموعی آبادی 18 لاکھ ہے جس کے ایک چوتھائی سے زائد افراد کوبے گھر ہونا پڑا جبکہ 65000 افراد کے نہ صرف گھر تباہ ہوئے ہیں بلکہ وہ بمباری کی وجہ سے ہر چیز سے محروم ہو گئے ہیں۔

مسٹر کانگ نے اسرائیلی کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے ہونے والی ہولناک تباہی کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ''غزہ میں ایک کامل تباہی کا ماحول ہے۔ اس تباہی نے 144 سکولوں کی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا ''غزہ کے ایک تہائی ہسپتال تباہ کر دیے گئے ہیں، 14 بنیادی صحت کے مراکز تباہ کیے گئے، 29 ایمبولینسز تباہ کی گئیں، اس تباہی کے باعث دس لاکھ سے زائد فلسطینی بمباری کی وجہ پانی اور بجلی سے محروم ہوئے ہیں۔ سیوریج کا نظام تباہ گیا ہے، خوراک کی کمی کا سامنا ہے اس صورت حال میں غزہ میں بیماریاں پھوٹنے کا خطرہ ہے۔''

بین کی مون نے اپنے خطاب میں کہا "اسرائیل کے حق دفاع کو اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے لیکن جو تباہی غزہ کے لوگوں پر مسلط کی گئی اس نے بین الاقوامی قانون اور عام شہریوں اور لڑنے والوں میں فرق کے حوالے سے سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں۔"

جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے شعبے کی سربراہ نیوی پیلے نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا ''شہریوں، ان کے گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں، پر ہر حملہ بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اس کی لازما مذمت کی جانی چاہیے۔"

انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا ''اس جنگ کے دوران اب تک 1900 فلسطینی لقمہ اجل بنے ہیں، جن کی غالب اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل کے 64 فوجی اور تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔"

نیوی پیلے نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "2008 اور 2009 اور 2012 کی جنگوں پر بھی کسی کا محاسبہ نہیں ہوا تھا۔'' تاہم انہوں نے اعلان کیا اس تازہ جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ اگلے سال مارچ میں پیش کی جائے گی۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی کے سفیر ریاض منصور نے اپنے خطاب میں کہا ''فلسطینی جنگ بندی بھی چاہتے ہیں اور اسرائیلی محاصرے کا خاتمہ بھی۔"

دوسری جانب اسرائیلی سفیر نے کہا اس مسئلے کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو حماس کے ساتھ اپنا 'رومانس' ختم کرنا ہو گا او حماس کو غیر مسلح ہونا گا۔ اسرائیلی سفیر نے عام شہریوں کے قتل عام، سکولوں، ہسپتالوں اور مساجد کی تباہی پر کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں