.

ڈبلیو ایچ او:ای بولا وائرس عالمی صحت ایمرجنسی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مغربی افریقہ میں پھیلنے والے مہلک وائرس ای بولا کو بین الاقوامی صحت ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چن نے کہا ہے کہ ''یہ اعلان عالمی یک جہتی کا اظہاریہ ہے لیکن انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ بہت سے ممالک میں شاید ای بولا کے کیس نہیں پائے جاتے ہیں''۔

ڈاکٹر چن نے جنیوا میں جمعہ کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''اب تک ای بولا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک اپنے طور پر اس سے پھوٹ پڑنے والی بیماری کے مقابلے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں۔میری عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ ہنگامی اور فوری بنیاد پر متاثرہ ممالک کو امداد مہیا کرے''۔

چار افریقی ممالک میں اس سال فروری کے بعد اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں قریباً ایک ہزار اموات ہوچکی ہیں اور سولہ سو سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔عالمی بنک نے گنی ،لائبیریا اور سیرالیون میں ای بولا کے وائرس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امداد کے طور پر بیس کروڑ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے مذکورہ تینوں افریقی ممالک میں ای بولا وائرس کے پھیلنے کے بعد ان کے شہریوں کو عمرے اور حج کے لیے ویزوں کے اجراء پر پابندی عاید کردی ہے۔اس ضمن میں سعودی عرب کے تمام داخلی راستوں پر متعین حکام کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور ای بولا کی تشخیص اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارت صحت کے اہلکاروں کو بھی ضروری تربیت دی گئی ہے۔

سعودی عرب میں ای بولا وائرس سے متاثرہ ایک شخص بدھ کو زندگی کی بازی ہار گیا تھا اور کسی عرب ملک میں ای وائرس سے یہ پہلی موت تھی۔اس کی نمایاں علامات میں یہ ہے کہ اس سے متاثرہ شخص کو سردی لگتی ہے،اعصاب اور سر میں شدید درد ہوتا ہے اور گلے اور سینے میں جلن ہوتی ہے،مریض کو نزلہ اور زکام کے ساتھ بخار ہوجاتا ہے۔اس دوران اگر اس کا معدہ اور مثانہ متاثر ہوجائے تو پھراس کا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔اس مرحلے پر پہنچنے والے مریض بالعموم موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اب تک اس مہلک وائرس سے لاحق ہونے والے وبائی مرض کی کوئی دوا یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔یہ مہلک وائرس 1976ء میں پہلی مرتبہ پھیلا تھا اور اس سے متاثر ہونے والے دوتہائی مریض جان کی بازی ہار گئے تھے لیکن اب اس کا شکار مریضوں کی شرح اموات کم ہو کر پچپن فی صد رہ گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے قبل ازیں 2009ء سوائن فلو اور اس سال مئی میں پولیو کو عالمی صحت ایمرجنسی قراردیا تھا اور اس کے تحت بعض احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں لیکن اس اعلان کے باوجود پولیو کا وائرس پھیلنے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور پاکستان اور کیمرون میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔