مصر: سب سے بڑی سیاسی جماعت ''حریت و انصاف'' پر پابندی

حریت و انصاف اخوان المسلمون کا سیاسی چہرہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت و انصاف پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی نے 2012 میں اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے صدر کا انتخاب جیتا تھا۔

مصر کی سابق عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کو پچھلے سال ماہ دسمبر میں دہشت گرد جماعت قرار دے کر اس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عایئد کر دی تھی، تاہم اس موقع پر اس کے سیاسی چہرے حریت و انصاف کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ وہ بھی اس میں شامل ہے یا نہیں۔

عدالتی ذرائع کے نزدیک ہفتے کے روز حریت و انصاف کے حوالے سے سامنے آنے والا فیصلہ مصر کی قدیم ترین سیاسی جماعت کے لیے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔

آج کے فیصلے سے پہلے یہ امکان تھا کہ اخوان المسلمون پر پابندی کے باوجود حریت و انصاف ملک کے سیاسی، انتخابی اور پارلیمانی عمل کا حصہ بن سکتی ہے۔ لیکن اب اس کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

واضح رہے مصر کے ترمیم شدہ روڈ میپ کے مطابق ماہ مئی میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے بعد پارلیمانی انتخابات کی باری ہے اور جلد انتخابی شیڈول جاری ہو سکتا ہے۔

اس متوقع انتخابی شیڈول سے پہلے حریت و انصاف پر عدالت کی طرف سے عائد کی گئی پابندی سے صدر السیسی کی سب سے بڑی مخالف جماعت انتخابی میدان سے باہر ہو گئی ہے۔

خیال رہے صرف دو روز پہلے مصر کے مفتی اعظم نے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کو ایسی ہی ایک عدالت سے ملنے والی سزائے موت کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ موت کی انتہائی سزا ضروری شہادتوں کا اہتمام کیے سنائی گئی ہے اور یہ مناسب نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں