قاہرہ :حکومت مخالف مظاہرے کے دوران ایک شخص ہلاک

پولیس نے برطرف صدر ڈاکٹر محمدمرسی کے 40 حامیوں کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں نماز جمعہ کے بعد اسلام پسندوں کے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے جبکہ پولیس نے چالیس مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی مظاہرین پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے احتجاجی مارچ کے دوران اپنے مخالف عام شہریوں سے محاذ آرائی کی کوشش کی تھی۔مظاہرین نے ہوائی فائرنگ کی اور پولیس پر پیٹرول بم پھینکے ہیں جس سے ایک افسر زخمی ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے کارکنان جولائی 2013ء میں ان کی برطرفی کے خلاف کم وبیش روزانہ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں جبکہ ان کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔گذشتہ ایک سال میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اخوان اور اس کی اتحادی جماعتوں کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چودہ سو کارکنان مارے جاچکے ہیں جبکہ اخوان مرنے والوں کی تعداد ڈھائی تین ہزار کے لگ بھگ بتاتی ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤں کے دورن اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے سیکڑوں کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔تاہم ابھی تک ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کی پیش رو عبوری حکومت نے اپنے خلاف مظاہروں کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں جامعات کے طلبہ اور اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔البتہ اب ان کے شرکاء کی تعداد کم پڑچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں