6500 سال بعد'حضرت نوح' کا جسد خاکی دریافت؟

امریکی ماہرین آثار قدیمہ کے دعوے پر ایک نئی بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ماہرین آثار قدیمہ نے حال ہی میں ایک بوسیدہ انسانی ڈھانچے کے بارے میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ انسانی ڈھانچہ آج سے 6500 سال قبل جلیل القدر پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کا ہے۔

امریکی ماہرین آثار قدیمہ کے تحقیقات اور قرآن کریم میں وارد حضرت نوح کی عمر کے حوالے سے واضح تضاد بھی موجود ہے۔ امریکی ماہرین اس انسانی ڈھانچے کو "نوح" کا نام دیتے ہیں مگر اس کی عمر 50 سال اور قد 1.78 سینٹی میٹر بتاتے ہیں۔ تاہم قرآن کریم اور دیگر تاریخی روایات میں حضرت نوح کی عمر ساڑھے نو سو سال بتائی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ "نایاب" انسانی ڈھانچہ آج سے 84 برس قبل سنہ 1930ء میں امریکا اور برطانیہ کے ایک مشترکہ ماہرین آثار قدیمہ کے مشن نے عراق کے جنوبی شہر الناصریہ سے تقریبا سولہ کلومیٹر دور ایک قدیم قبرستان سے 48 کے قریب دیگر انسانی ڈھانچوں کے ساتھ نکالا تھا۔ ان میں بعض ڈھانچے 60 فٹ زمین کی گہرائی میں پائے گئے تھے۔

"نوح" کے نام سے موسوم ڈھانچے کو بعد ازاں برطانیہ اور پھر امریکی ریاست پنسلوینیا میں قائم آثار قدیمہ اور عمرانیات میوزیم کے ایک تہ خانے میں رکھا گیا۔ امریکی ماہرین نے اس ڈھانچے پر مزید تحقیقات کیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 1930ء میں آثار قدیمہ کے ایک مشن نے یہ انسانی ڈھانچہ الناصریہ کے قریب 2500 قبل مسیح کے ایک قبرستان سے 12 میٹر کی گہرائی سے نکالا۔ اس وقت یہ ڈھانچہ کیچڑ اور مٹی میں لت پت تھا۔

چونکہ جب یہ انسانی ڈھانچے برآمد کیے تب ماہرین کے پاس جدید سائنسی آلات نہیں تھے، اس لیے ان پر مزید تحقیقات کے بجائے انہیں میوزیم میں رکھ دیا گیا تھا۔ البتہ حال ہی میں ماہرین نے جدید سائنسی آلات کی مدد سے ان کی مزید جانچ پڑتال شروع کی ہے۔ امید ہے کہ اب ان ڈھانچوں سے 6500 سال قبل ان کی خوراک، آباؤ اجداد اور امراض کا پتا چلانے میں مدد ملے گی۔

ماہرین اسی نوعیت کے ایک دوسرے نایاب انسانی ڈھانچے پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ دوسرا ڈھانچہ 60 فٹ گہرائی سے نکالا گیا تھا۔ یہ بھی کیچڑ اور گارے سے لت پت تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس شخص کی موت تباہ کن سیلاب کےبا عث ہوئی ہو گی کیونکہ اس کے جسم پر گارے اور چکنی مٹی کی جمی ہوئی تہوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی ڈھانچہ طویل مدت تک گارے ہی میں رہا ہے۔

امریکی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ولیم ھاورڈ کی تحقیقات کے مطابق "نوح" کے نام سے موسوم انسانی ڈھانچے پر کی گئی تحقیقات سے پتا چلا ہے یہ ایک طویل القامت اور مضبوط اعصاب کے مالک شخص کا جسد خاکی ہے۔ تاہم اس کی عمر تقریبا پچاس سال ہے۔ ڈاکٹر ولیم کے مطابق جب "نوح" نامی ڈھانچے کو زمین سے نکالا گیا تو اس کی پاؤں کی سمت میں مٹی کے 10 برتن بھی ملے ہیں۔ البتہ جسم پر لباس کی کوئی علامت موجود نہیں۔ ممکن ہے مرور زمانہ کے ساتھ لباس مٹی کا حصہ بن گیا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں