.

عراقی شدت پسندوں پر حملے کئی ہفتے جاری رہ سکتے ہیں

وائٹ ہاوس میں نیوز کانفرنس، حملوں کے اختتام کی حتمی تاریخ دینے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں شدت پسند تنظیم 'داعش' کے خلاف جاری امریکی کارروائی کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے عراق میں شدت پسندوں پر امریکی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے امریکا کی فوجی مداخلت ضروری تھی۔

صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی جنگی طیاروں نے عراقی کردستان کے دارالحکومت اِربل کے نزدیک موجود شدت پسند تنظیم کے جنگجووں پر دو حملے کیے ہیں جن میں ان کے ہتھیار اور دیگر سامان تباہ کیا گیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ جمعہ کو کیے جانے والے دونوں حملے اربیل کی طرف جنگجووں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ضروری تھے۔

خیال رہے کہ اربیل میں امریکا کا قونصل خانہ قائم ہے جب کہ ان دنوں وہاں کئی امریکی فوجی مشیر بھی موجود ہیں جو کرد فوج 'پیشمرگہ' کو سنی جنگجووں کے خلاف کارروائی میں مشاورت اور تیکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

صدر اوباما نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی فوجی کارروائی کے خاتمے کا کوئی طے شدہ وقت معین نہیں ہے اور یہ کارروائی کئی ہفتوں تک محیط ہوسکتی ہے۔

صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی طیاروں نے عراق کے انتہائی شمال مغربی علاقے 'سِنجار' کے نزدیک پہاڑیوں پر پناہ گزین ان ہزاروں افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے کھانے اور پانی کے بنڈل بھی گرائے ہیں جو 'داعش' کی پیش قدمی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ کر وہاں پناہ گزین ہیں۔

سنجار کے علاقے میں عراق کی عیسائی اور یزیدی اقلیت کے وہ ہزاروں افراد پناہ گزین ہیں جنہیں رواں ہفتے 'الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق والشام (داعش)' کے جنگجووں کی اچانک پیش قدمی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ کر بے سرو سامانی کے عالم میں محفوظ مقامات کی جانب فرار ہونا پڑا تھا۔

صدر نے کہا کہ شدت پسندوں سے بچنے کے لیے پہاڑ پر پناہ لینے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور انہیں وہاں سے نکالنے اور کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

باراک اوباما نے عراق میں امریکی فوجی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسی صورتِ حال کا نظر انداز نہیں کرسکتا تھا جہاں معصوم لوگوں کو قتلِ عام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا نے 'داعش' کے جنگجووں کی پیش قدمی روکنے میں مصروف کرد فوج کے لیے اپنی امداد میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے عراق کی صورتِ حال پر فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم سے بھی گفتگو کی ہے۔ صدر کے بقول ان رہنماؤں نے شدت پسندی سے متاثرہ عراقی عوام کے لیے مزید امدادی سرگرمیاں انجام دینے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر نے عراق میں فوری طور پر نئی حکومت کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا شدت پسندوں کے خلاف صرف فضائی حملے ہی کر سکتا ہے لیکن عراقی بحران کا پائیدار حل نکالنا امریکی فوج کا نہیں بلکہ عراقی حکومت کا کام ہے۔