.

کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی آیندہ انتخابات ہارجائے گی:سعیدہ وارثی

برطانوی وزیراعظم نے اقلیتی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی پاکستانی نژاد سابق وزیرسعیدہ وارثی نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جماعت کنزرویٹوز آیندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں نسلی اقلیتی ووٹروں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوجائے گی۔

سعیدہ وارثی گذشتہ ہفتے برطانوی حکومت کی غزہ کے بارے میں پالیسی پر احتجاج کے طور پر مستعفی ہوگئی تھیں اور انھوں نے ٹویٹر پر اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی طور ناقابل دفاع اسرائیل نواز پالیسی کی مزید حمایت نہیں کرسکتی ہیں۔واضح رہے کہ انھوں نے گذشتہ انتخابات میں کنزرویٹوز کے لیے مسلم ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انھوں نے دوبرطانوی اخبارات سنڈے ٹائمز اور انڈی پینڈنٹ میں اتوار کو شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ ''وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے نسلی اقلیتی ووٹروں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے آیندہ سال ہونے والے قومی انتخابات میں ہمیں اکثریت نہیں مل سکے گی''۔انھوں نے کہا کہ ''ہم نے ان ووٹروں کی جانب سنجیدہ سے توجہ نہیں دی ہے''۔

سعیدہ وارثی کے استعفے کے بعد اب ان کی جانب سے تنقید سے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو دھچکا لگا ہے اور اس کی عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔برطانیہ میں مقیم نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹر کل ووٹروں کا چودہ فی صد ہیں۔2010ء میں منعقدہ عام انتخابات میں بھی کیمرون کی جماعت ان ووٹروں کی کوئی زیادہ حمایت حاصل نہیں کرسکی تھی جس کی وجہ سے اس کو بائیں بازو کی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑی تھی۔

ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق گذشتہ انتخابات میں صرف سولہ فی صد نسلی اقلیتی ووٹروں نے کنزرویٹوز کے حق میں ووٹ ڈالے تھے جبکہ ان مِں سے اڑسٹھ فی صد نے حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کی حمایت کی تھی۔رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق مئی 2015ء میں ہونے والے انتخابات میں اس وقت لیبر پارٹی کو کنزرویٹوز پر چار فی صد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کے سیاسی ترجمان نے سعیدہ وارثی کے انٹرویو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن گذشتہ ہفتے ایک خط میں برطانوی وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ سعیدہ وارثی نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے حکومت کے لیے ان کے کام پر شکریہ ادا کیا تھا۔

سعیدہ وارثی بیرونس ہیں اور وہ برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا دارامراء کی رکن ہیں۔وہ 2010ء میں برطانیہ کی پہلی مسلم وزیربنی تھیں لیکن بعد میں ان کا درجہ گھٹا دیا گیا تھا اور انھیں دفتر خارجہ ،عقیدے اوراقلیتی برادریوں کی وزارت کی سینیر وزیرمملکت بنا دیا گیا تھا۔وہ 2010ء سے 2012ء کے درمیان کنزرویٹو پارٹی کی چئیرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔