.

"داعش شامی باغیوں کی مدد میں ناکامی کا نتیجہ ہے"

اسرائیل نے غزہ پر حملہ اپنے دفاع میں کیا: ہیلری کلنٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی دبنگ خاتون سیاست دان اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ مغرب، شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم باغیوں کی مدد کرتا تو آج شدت پسند دولت اسلامی عراق وشام [داعش] کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ آج اگر عراق وشام پر 'داعش' قبضہ کر رہی ہے تو یہ شامی باغیوں کی بر وقت مدد نہ کرنے کا ثمر ہے۔

خیال رہے کہ یہی بات چند ہفتے قبل سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ"داعش" سنہ 2003ء میں عراق پر حملے کا نہیں بلکہ شام کی تحریک بغاوت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔

'دی اٹلانٹک' نامی امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ اور متوقع صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ایک انٹرویو میں صدر باراک اوباما کی پالیسیوں سے سخت اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے مذہبی شدت پسندوں کے خلاف بروقت کارروائی کی ہوتی تو آج "داعش" جیسے گروپ عراق اور شام پر قبضہ نہ کر رہے ہوتے۔

ہیلری کلنٹن نے انکشاف کیا کہ انہوں نے رواں سال فروری میں صدر اوباما سے ملاقات میں شام میں فوجی کارروائی کے لیے توجہ دلائی تھی۔ اس کے جواب میں صدر نے کہا کہ امریکا کے پاس ایک پیشہ ور فوج توہے مگر شام میں جاری لڑائی ایک کسان، ایک بڑھئی اور ایک معمار کے درمیان ہے۔

بشار الاسد کےخلاف لڑنے والے گروپ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ یہ خانہ جنگی آج تک چل رہی ہے۔ ایسے میں امریکا، شام میں فوج داخل کر کے زمینی حالات کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔

'دی اٹلانٹک' کےمطابق ہیلری کلنٹں نے شام میں عدم مداخلت کی صدر اوباما کی پالیسی کی حمایت نہیں کی۔ وہ آج بھی اس اپنے اس قول پر قائم ہیں کہ شام کے معاملے میں امریکا کی غیرجانب دارانہ پالیسی نے 'داعش' جیسے شدت پسند دہشت گرد گروپ پیدا کیے ہیں۔

مستقبل کی متوقع امریکی صدر ہیلری کلنٹن نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی خونی یلغار کے سوال پر اسرائیل کی حمایت کی۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے وہی کچھ کیا ہے جو انہیں فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے جواب میں کرنا چاہیے تھا۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ غلطی اسرائیل سے نہیں حماس سے ہوئی ہے۔ حماس، اسرائیل پر راکٹ نہ پھینکے، آبادی کے اندر زیر زمین سرنگیں کھود کر اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا نہ کرے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے 'تجاھل عارفانہ' سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے اسرائیل کے غزہ حملوں میں غلطی سے 'عام لوگ بھی مارے گئے ہوں۔ مگر بعض اوقات غلطی سے ایسا ہو ہی جاتا ہے۔'