.

ہیومن رائٹس واچ کے مصر داخلے پر پابندی

اقدام کا مقصد رابعہ العدویہ قتل عام پر رپورٹ کے اجراء سے روکنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کی ملک میں داخلے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ یہ اقدام احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی عوامی ہلاکتوں سے متعلق ایک رپورٹ کے اجراء سے قبل کیا گیا ہے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کینیتھ روتھ اور عالمی انجمن کی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطٰی سارہ لیہ وٹسن کو قاہرہ ائیر پورٹ پر روک کر انہیں مصر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

سارہ وٹسن نے مصر سے بیدخلی سے پہلے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ "یہ قاہرہ کا سب سے کم دورانیے [12گھنٹے] کا دورہ تھا۔ نیا مصر یقیناً تبدیل ہو رہا ہے۔"

ہیومن رائٹس واچ کے اہلکار گذشتہ برس مصر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومتی ایکشن میں تقریبا 700 اپوزیشن کارکنوں کی ہلاکت کا ایک برس مکمل ہونے پر ایک رپورٹ جاری کرنے قاہرہ آئے تھے۔ یہ ایکشن مصری تاریخ کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعہ تھا جس کی مثال گذشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔

یاد رہے کہ مصر کے معزول اسلام پسند صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اور احتجاجی مظاہرین نے قاہرہ کی رابعہ العدویہ مسجد کے باہر فوجی اقدام کے خلاف کئی ہفتوں سے احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا۔ پولیس نے ان خیمہ زن احتجاجی کارکنوں کو منشر کرنے کے لیے بھرپور فوجی ایکشن کیا جس میں اشک آور گیس سے لیکر بکتر بند گاڑیوں تک کے ذریعے اندھی ریاستی طاقت کا استعمال کیا جس میں سیکڑوں افراد جاں سے گئے۔

ایک حکومتی عہدیدار کے مطابق اس کارروائی میں مارے گِے جبکہ مظاہرین کی جوابی کارروائی میں آٹھ پولیس اہلکار بھی کام آئے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

کینیتھ روتھ نے ٹویٹر میں پیغام بتایا کہ رابعہ العدویہ کے قتل عام میں مہلوکین کی تعداد ماضی کے ایسے ہی بہیمانہ اقدامات کے ہم پلہ ہے مگر قاہرہ مجھے یہ رپورٹ جاری نہیں کرنے دے رہی ہے۔