.

'داعش' کی دہشت گردانہ سازش ناکام بنانے کا ایرانی دعویٰ

شدت پسند یوم القدس کی ریلیوں میں خودکش حملے کرنا چاہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پچیس جولائی کو 'یوم القدس' کے بڑے جلوسوں پر شدت پسند تنظیم 'داعش' نے خودکش حملے کا منصوبہ بنایا تھا جسے سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق تہران شہر کے گورنر کے سیاسی مشیر صفر علی براتلو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'داعش' نے خودکش بمباروں کا ایک گروپ تہران میں یوم القدس کی ریلیوں پر خودکش حملوں کے لیے بھیجا تھا، تاہم ملک کے خفیہ اداروں کو اس کی اطلاع ہو گئی تھی جس پر دہشت گردی کی بدترین سازش ناکام بنا دی گئی۔ مسٹر صفر علی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا داعش کے جنگجو تہران میں کہاں اس کس وقت دہشت گردی کی منصوبہ بندی بنا رہے تھے تاہم انہوں نے اپنے بیان زیادہ کارروائی کی مذمت پر زور دیا۔

حال ہی میں ایرانی حکومت کے مقرب سمجھے جانے والے اخبار 'جمہوری اسلامی' نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے جنگنو جمہوریہ آذربائیجان کی سرحد سے متصل ایران کے شمال مغربی شہر اردبیل میں پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت داخلہ نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔

اخبار نے داعش' کے ایک مبینہ جنگجو کا حلیہ بھی بیان کیا اور رپورٹ میں لکھا کہ اردبیل مییں ایک طویل القامت، عربی لباس مں ملبوس مشکوک شخص کو ایک جیپ میں گھومتے متعدد مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ لمبی داڑھی اور سرمنڈا ہوا تھا۔ وضع قطع میں وہ 'داعش' کے جنگجوؤں سے مشابہت رکھتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق آخری مرتبہ اس مشکوک شخص کو "علی سرباز" روڈ پر ایک جیپ میں دیکھا گیا۔

اس وقت اس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں کلہاڑا تھا۔ لوگوں سے وہ عربی اور ترکی میں گفتگو کر رہا تھا۔ عام شہریوں سے بات چیت میں ملک میں نظام عدل وانصاف کے قیام کے لیے 'داعش' کی معاونت کی اپیل کرتے دیکھا گیا۔

میڈیا رپورٹس نے شمالی مغربی ایرانی شہر زنجان میں بھی داعش کے جنگجوؤں کی آمد کی اطلاع دی تھی تاہم شہر کے پولیس چیف نے 'داعش' کی موجودگی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔