.

اسرائیل کی مالی معاونت نہیں کرتے: اسٹار باکس

تل ابیب میں کمپنی کا کاروبار 10 سال سے بند ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کافی فروخت کرنے بین الاقوامی چین 'اسٹار باکس' نے حالیہ چند دنوں میں تواتر سے ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کمپنی اور اس کا یہودی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اسرائیل کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔

اسٹار باکس نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان کے ذریعے واضح کیا ہے گذشتہ دس برس سے اسرائیل میں ان کا کاروبار معطل ہے۔ اسرائیل میں اس کا نہ کوئی اسٹور ہے اور نہ ہی کیفے موجود ہے۔ نیز کمپنی پر اسرائیلی حکومت اور فوج کی معالی معاونت کے الزامات قطعی بے بنیاد ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹار باکس کا اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک کاروباری ادارہ ہے جس کا مذہب یا سیاست کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ھوارڈز شولٹز یہودی ضرور ہیں مگر وہ اسرائیلی حکومت یا فوج کے ساتھ کسی قسم کی مالی معاونت نہیں کر رہے ہیں۔ اسٹار باکس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل میں سنہ 2003ء میں اپنے تمام فریچائز بند کر دیے تھے جو آج تک بند چلے آ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کافی فروخت کرنے والی بین الاقوامی کمپنی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد اسرائیل سے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی عالمی مہم شروع کی گئی تھی۔ اسرائیل کی مالی اعانت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی زد میں 'اسٹار باکس' بھی آئی اور ایک ماہ میں تقریبا 02 لاکھ 40 ہزار افراد نے اسٹار باکس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔

واضح رہے کہ اسٹار باکس کے 12 ممالک میں کاروباری مراکز ہیں۔ ان میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، مراکش، قطر، سعودی عرب،اردن، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔